کیلی فورنیا کے قانون ساز ذہنی صحت کے لیے اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر تھراپسٹ کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔ حال ہی میں پیش کیا گیا 'سینیٹ بل 9' اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ مریضوں کو انسانی نگرانی کے بغیر صرف چیٹ بوٹس پر نہ چھوڑا جائے۔
ذہنی صحت کے لیے اے آئی ریگولیشن کیوں ضروری ہے؟
حالیہ برسوں میں چیٹ بوٹس پر مبنی ذہنی صحت کی سہولیات کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہ ایپس ان لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جو روایتی تھراپی تک رسائی نہیں رکھتے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی ہمدردی اور کلینیکل فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اے آئی کو مکمل طور پر انسانی تھراپسٹ کی جگہ لینے سے روکا جائے۔
- قانون کا مقصد: اے آئی کو تنہا تھراپسٹ کے طور پر کام کرنے سے روکنا۔
- حفاظتی اقدام: شدید ذہنی تناؤ یا بحران کے وقت غلط مشورے سے بچنا۔
- موجودہ صورتحال: سینیٹ بل 9 پر کیلی فورنیا کی اسمبلی میں بحث جاری ہے۔
خودکار تھراپی کے خطرات
بہت سے صارفین 24 گھنٹے دستیاب چیٹ بوٹس کو سہولت سمجھتے ہیں، لیکن یہ ایپس اکثر غلط معلومات فراہم کر سکتی ہیں یا سنگین طبی صورتحال میں صحیح رہنمائی کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ڈیجیٹل ہیلتھ ایپس کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس لیے کیلی فورنیا کی یہ قانون سازی عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر آپ کسی ذہنی بیماری کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں، تو اسے صرف ایک معاون ٹول سمجھیں، نہ کہ مکمل علاج۔
صارفین کے لیے مشورہ
اگر آپ ذہنی صحت کے لیے کسی اے آئی ایپ کا سہارا لے رہے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ ایک سند یافتہ ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہے۔ کسی بھی سنگین مسئلے کی صورت میں ہمیشہ کسی ماہر نفسیات یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ذہنی صحت کے لیے اے آئی ریگولیشن کا مطالبہ دراصل ان مریضوں کے تحفظ کے لیے ہے جو خودکار پروگراموں کے غلط مشوروں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا کمپنیاں اپنی ایپس میں انسانی مداخلت کو لازمی قرار دیتی ہیں یا نہیں۔ کیلی فورنیا کے اس اقدام سے دیگر ممالک بھی اپنی ڈیجیٹل ہیلتھ پالیسیاں مرتب کرنے میں مدد لے سکتے ہیں۔ ہم سینیٹ بل 9 کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور آپ کو اس بارے میں باخبر رکھیں گے۔
