کینیڈا نے لیبر مارکیٹ امپیکٹ اسیسمنٹ یعنی ایل ایم آئی اے کے بغیر جاری ہونے والے کینیڈا ورک پرمٹ کے قواعد و ضوابط میں سخت ترامیم کر دی ہیں۔ سی ٹوئنٹی ریسیپروکل ایمپلائمنٹ کیٹیگری کے تحت نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد غیر ملکی شہریوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کینیڈا جانے سے پہلے متعلقہ سمندر پار ادارے میں باقاعدہ ملازم ہوں۔ اس اچانک تبدیلی سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے وہ آئی ٹی پروفیشنلز اور کارپوریٹ ملازمین براہ راست متاثر ہوئے ہیں جو اس آسان راستے کے ذریعے کینیڈا منتقلی کے خواہاں تھے۔ ملکی امیگریشن کنسلٹنٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد ویزا کے منتظر امیدواروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ان کی فائلیں اب نئے اور پیچیدہ تقاضوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

پاکستانی آئی ٹی ماہرین اور ورکرز پر اثرات

یہ نئی پالیسی ان بین الاقوامی نقل و حرکت کے پروگراموں کو نشانہ بناتی ہے جن کے تحت غیر ملکی کمپنیاں ہنر مند ورکرز کو کینیڈین برانچوں میں آسانی سے منتقل کرتی تھیں۔ ماضی میں امیدوار مارکیٹ میں باہمی فائدے کا ثبوت دے کر ایل ایم آئی اے کی شرط سے استثنیٰ حاصل کر لیتے تھے۔ اب البتہ امیدواروں کے لیے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ غیر ملکی مدر کمپنی کے ساتھ ملازمت کا پکا ریکارڈ پیش کریں، جس سے آزاد کنٹریکٹرز اور وہ امیدوار باہر ہو گئے ہیں جو پاکستان سے براہ راست ملازمت کے معاہدے حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ لاہور کے نیسکام یا کراچی کے سافٹ ویئر ہاؤسز میں کام کرنے والے نوجوان پروفیشنلز کے لیے کینیڈا منتقلی کا یہ تیز ترین راستہ اب بند ہو چکا ہے۔

آپ کے گھریلو بجٹ اور مالیات پر اثر

پاکستان میں کینیڈا کی ہجرت کی تیاری کرنے والے خاندانوں کے لیے ان نئے قوانین کا مطلب غیر متوقع مالی نقصان اور تاخیر ہے۔ کینیڈین ہائی کمیشن میں جمع کرائی جانے والی پروسیسنگ فیس واپس نہیں ملتی اور جو امیدوار نئی ملازمت کی شرط پر پورا نہیں اتریں گے، ان کے ویزے مسترد ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ جن پروفیشنلز نے جلدی منتقلی کی امید میں اپنی مقامی نوکریاں چھوڑ دی تھیں، انہیں اب ملکی جاب مارکیٹ میں دوبارہ شدید مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گھرانوں کو پاکستانی روپے میں اپنی بچتوں کا دوبارہ حساب لگانا ہوگا کیونکہ فضائی سفر اور آبادکاری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ آجر کمپنیاں بھی اوٹاوا کے نئے احکامات کے مطابق اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کی کوئی درخواست یا آجر کی طرف سے منتقلی کا عمل جاری ہے تو اپنے کیریئر کو بچانے کے لیے فوری قدم اٹھائیں۔

  • اپنے کینیڈین آجر یا امیگریشن وکیل سے فوری رابطہ کریں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ آپ کا معاہدہ نئی ملازمت کی شرط پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔
  • کینیڈین ویزے کی باضابطہ تصدیق تک اپنی موجودہ پاکستانی نوکری چھوڑنے کا ارادہ معطل رکھیں اور استعفیٰ نہ دیں۔
  • اپنے موجودہ پاکستانی آجر سے ملازمت کا ریکارڈ، ٹیکس سرٹیفکیٹس اور تنخواہ کی سلپس محفوظ کر لیں تاکہ باضابطہ ملازمت کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

امیگریشن ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کینیڈین وزارتِ امیگریشن کی جانب سے جاری ہونے والی نئی ہدایات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ پاکستان میں کام کرنے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلانات کا انتظار کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ نئی پالیسی کے تحت اپنی اندرونی منتقلی کی پالیسیوں کو کیسے ڈھالتی ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے ماہ تک مقامی ریکروٹمنٹ ایجنسیاں نئی صورتحال کے پیش نظر اپنی بھرتی کی پیشگوئیوں پر نظرثانی کریں گی۔