کینسر کے علاج کے دوران یا اس کے مکمل ہونے کے بعد جب بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صحت یابی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی علامت ہوتا ہے۔ ایسے میں بہت سے مریض اپنی ظاهری شکل بحال کرنے کے لیے ہیئر ڈائی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ طب خبردار کرتے ہیں کہ کیموتھراپی کے بعد جلد اور بال انتہائی حساس ہو جاتے ہیں، اس لیے جلدی میں کیمیائی رنگوں کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ملک کے مختلف کینسر اسپتالوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کو کیموتھراپی ختم ہونے کے فوراً بعد بالوں کو رنگنے سے گریز کرنا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ کم از کم تین سے چھ ماہ کا انتظار کیا جائے تاکہ سر کی جلد اور بال قدرتی طور پر مضبوط ہو سکیں۔ اگر آپ کا سر اب بھی خشک، حساس یا سوزش کا شکار ہے تو یہ کیمیائی رنگ الرجی، جلن یا دوبارہ بال جھڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

حساس جلد کے لیے محفوظ مصنوعات کا انتخاب

جب آپ بال رنگنے کا فیصلہ کریں تو ایسے پروڈکٹس کا انتخاب کریں جو سخت کیمیا سے پاک ہوں۔ عام مستقل ڈائی میں امونیا اور پی پی ڈی جیسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو حساس جلد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماہرین درج ذیل متبادل استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:

  • امونیا سے پاک ڈائی: یہ سر کی جلد کو کم نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • قدرتی یا ہربل رنگ: خالص مہندی یا قدرتی اجزاء سے بنے رنگ استعمال کریں، بشرطیکہ ان میں کیمیائی ملاوٹ نہ ہو۔
  • سیمی پرمننٹ رنگ: یہ کچھ عرصے بعد اتر جاتے ہیں اور ان میں کیمیا کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔

پیچ ٹیسٹ کی اہمیت اور احتیاطی تدابیر

بالوں کو مکمل رنگنے سے پہلے ہمیشہ پیچ ٹیسٹ ضرور کریں۔ علاج کے بعد جسم کی قوتِ مدافعت میں تبدیلی آ جاتی ہے، اس لیے جو چیز پہلے نقصان نہیں دیتی تھی، وہ اب الرجی کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈائی لگانے سے اڑتالیس گھنٹے قبل کان کے پیچھے یا کہنی پر تھوڑا سا مکسچر لگا کر چیک کریں۔ اگر سرخی، جلن یا خارش ہو تو فوراً دھو لیں۔ کسی بھی نئے پروڈکٹ کے استعمال سے پہلے اپنے معالج یا ماہرِ امراضِ جلد سے مشورہ کرنا سب سے بہتر ہے۔

مریضوں کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل

اگر آپ بالوں کو رنگنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے اگلے طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر سے اس بارے میں ضرور بات کریں۔ ڈائی لگانے کے بعد چند روز تک سر کی جلد پر خصوصی توجہ دیں۔ اگر کسی بھی قسم کی الرجی یا تکلیف محسوس ہو تو فوراً پروڈکٹ کا استعمال ترک کر دیں اور جلد کو سکون دینے کے لیے قدرتی تیل کا استعمال کریں۔