اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں براڈ پیک کے جاں بحق کوہ پیماؤں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ اس تقریب کا مقصد ان بہادر کوہ پیماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے پاکستان کی بلند و بالا چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔

براڈ پیک کے جاں بحق کوہ پیماؤں کو خراج عقیدت

اس موقع پر کوہ پیمائی سے وابستہ افراد، سماجی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے 8051 میٹر بلند براڈ پیک پر اپنی جانیں گنوانے والے کوہ پیماؤں کی ہمت اور جذبے کو یاد کیا۔ تقریب کے دوران نیپال کے سفیر نے بھی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حادثات پوری کوہ پیما برادری کے لیے ایک بڑا صدمہ ہیں۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

کوہ پیمائی میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت

اس سانحے کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کوہ پیمائی کے دوران حفاظتی انتظامات اور ریسکیو آپریشنز کے حوالے سے بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑوں پر موسم کی اچانک تبدیلی اور شدید سردی کسی بھی تجربہ کار کوہ پیما کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ الپائن کلب آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

مستقبل میں کیا توقع کی جائے؟

آئندہ کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کوہ پیماؤں کے لیے حفاظتی ضوابط کو مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر آپ کوہ پیمائی یا ٹریکنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو سفر سے قبل محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور مقامی گائیڈز کی ہدایات کو اولیت دیں۔ کسی بھی مہم جوئی پر نکلنے سے قبل رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنا اور حکومتی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہنا آپ کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔