کیپ ورڈی کے تجربہ کار گول کیپر فوزیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ پیشہ ورانہ فٹبال میں عمر صرف ایک عدد ہے، کیونکہ ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے بعد چلی کے مشہور کلب کول و کو میں ان کی منتقلی نے ان کے دیرینہ خود اعتماد پر مہر ثبت کر دی ہے۔ چالیس سال کی عمر میں اس بڑے کلب کا حصہ بننا کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک خواب جیسا ہوتا ہے، اور فوزیہ نے یہ سنگ میل اپنی شاندار کھیل کی بدولت حاصل کیا۔ پاکستان میں فٹبال کے شائقین کے لیے بھی یہ کہانی اس بات کی غماز ہے کہ مسلسل محنت اور دباؤ میں بہترین کارکردگی انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

ورلڈ کپ کا وہ اسٹیج جس نے سب کچھ بدل دیا

فوزیہ کا جنوبی امریکہ کے اس تاریخی کلب تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ بین الاقوامی ٹورنامنٹس ہمیشہ سے ایسے کھلاڑیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم رہے ہیں جو روایتی یورپی لیگز سے باہر کھیل رہے ہیں۔ اپنی قومی ٹیم کے لیے اہم بچتیں کرنے اور گول پوسٹ کے نیچے پختہ اعصاب کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے وہ بین الاقوامی اسکاٹس کی نظروں میں آئے۔ جب آپ عالمی سطح پر چھوٹی ٹیموں کو بڑا اپ سیٹ کرتے دیکھتے ہیں، تو اکثر ایسے ہی کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی دنیا کی توجہ مبذول کراتی ہے۔

کول و کو جیسے بڑے کلب میں شمولیت بہت زیادہ دباؤ لاتی ہے، لیکن کیپ ورڈی کے اس کھلاڑی کا اصرار ہے کہ انہیں کبھی اپنے اوپر شک نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب آپ اتنی بڑی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو خود پر پختہ یقین ہی آپ کو کامیابی دلاتا ہے۔

  • بڑے مقابلوں میں تجربہ ہمیشہ کام آتا ہے۔
  • کیریئر کے آخری سالوں میں بھی فٹنس برقرار رکھ کر شاندار کھیل پیش کیا جا سکتا ہے۔
  • کلب اب تجربہ کار اور اعصابی طور پر مضبوط کھلاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

فٹبال کے شائقین کے لیے اس میں کیا سبق ہے

اگرچہ پاکستانی فٹبال شائقین کی اکثریت یورپی لیگز جیسے پریمیئر لیگ کو پسند کرتی ہے، لیکن جنوبی امریکہ اور افریقہ کا فٹبال بھی اپنی مثال آپ ہے۔ فوزیہ جیسی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دنیا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ چالیس سالہ گول کیپر چلی کی ڈومیسٹک فٹبال میں کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔