اسلام آباد کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اسلام آباد میں کمرشل پلاٹس کی نیلامی کے پہلے دو روز کے دوران اربوں روپے کے سودے طے پائے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس نیلامی میں ملک بھر کے بڑے سرمایہ کاروں اور بلڈرز نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور وفاقی دارالحکومت میں قیمتی تجارتی اراضی کے حصول کے لیے بڑی بولیاں لگائیں۔
نیلامی کے پہلے دو دنوں کے دوران اتھارٹی نے مختلف تجارتی اور زرعی اراضی کے ٹکڑے کامیابی سے فروخت کیے، جن سے مجموعی طور پر 16.438 ارب روپے کی ریکارڈ آمدنی حاصل ہوئی۔ معاشی جمود کے باوجود کاروباری شخصیات کا اتنی بڑی رقم خرچ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دارالحکومت کے تجارتی زونز میں سرمایہ کاری اب بھی محفوظ اور منافع بخش سمجھی جاتی ہے۔
اہم بولیوں کی تفصیلی صورتحال
نیلامی کے دوران مری روڈ اور گردونواح کے علاقوں میں واقع فارم ہاؤسز اور کمرشل پلاٹس کے لیے سخت مقابلہ دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق اس دوران کئی اہم جائیدادیں منہ مانگے داموں فروخت ہوئیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- مری روڈ پر واقع ایگرو فارم نمبر 17-اے کی بولی 966 ملین روپے میں نجی گئی اور یہ پلاٹ فروخت ہو گیا۔
- ایک اور ایگرو فارم کے سودے نے تمام ریکارڈ توڑ دیے جو 1212 ملین روپے کی بھاری مالیت میں فروخت ہوا۔
- اسلام آباد میں کمرشل پلاٹس کی نیلامی کے ابتدائی 48 گھنٹوں کے اندر کل فروخت کا حجم 16.438 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے پیغام
اگر آپ جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہیں تو یہ اعداد و شمار آپ کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ عام رہائشی پلاٹس کی مارکیٹ جہاں سست روی کا شکار ہے، وہیں سی ڈی اے کے زیر انتظام منظور شدہ تجارتی اور زرعی پلاٹس کی قدر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سرمایہ کار مہنگائی کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنا سرمایہ ان پراجیکٹس میں منتقل کر رہے ہیں کیونکہ مستقبل میں یہاں تعمیرات کے بعد کرایوں اور تجارتی سرگرمیوں سے بھاری منافع کی توقع ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
نیلامی کے اس طویل سلسلے کے اختتام پر سی ڈی اے کی حتمی رپورٹ کا انتظار رہے گا جس میں تمام کامیاب خریداروں کے نام اور ادائیگی کے شیڈول جاری کیے جائیں گے۔ آپ مزید معلومات اور باضابطہ نوٹیفکیشنز کے لیے سی ڈی اے کی آفیشل ویب سائٹ cda.gov.pk کا وزٹ کر سکتے ہیں تاکہ نیلامی کے قواعد و ضوابط سے آگاہ رہیں۔
