پاکستان میں جولائی 2026 کے دوران کاروں کی فروخت میں 141 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مقامی آٹوموبাইল انڈسٹری میں بحری کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں کاروں کی کل فروخت 17,216 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں صرف 7,135 گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔ یہ شاندار اضافہ ملک بھر میں صارفین کی قوت خرید میں بہتری اور مارکیٹ کے حالات میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

جولائی 2026 کے دوران کاروں کی فروخت میں تیزی کی وجوہات

کار سیلز پاکستان میں اس بڑے اضافے کی بنیادی وجہ سپلائی چین کی بہتری، گاڑیوں کے فنانسنگ ریٹس میں بہت بہتری، اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے نئی گاڑیوں کا تعارف ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران درآمدی پابندیوں، مہنگائی اور ٹیکسوں کی وجہ سے آٹوموبাইল سیکٹر شدید بحران کا شکار تھا، لیکن اب کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے شورومز میں خریداروں کی واپسی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

فروخت کے اعداد و شمار کا جائزہ

گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال جولائی کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • جولائی 2026 میں فروخت ہونے والی کل گاڑیاں: 17,216 یونٹس
  • جولائی 2025 میں فروخت ہونے والی کل گاڑیاں: 7,135 یونٹس
  • سالانہ بنیادوں پر شرح نمو: 141 فیصد اضافہ

یہ اعداد و شمار پاکستان آٹوموبাইল مینوفیکচারرز ایسوسی ایشن (PAMA) اور دیگر اسمبلرز کے مجموعی ڈیٹا پر مبنی ہیں، جن میں مسافر کاریں، ہلکی تجارتی گاڑیاں اور جیپیں شامل ہیں۔

کار خریداروں کے لیے اہم مشورے

اگر آپ نئی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو ڈیلرشپ پر گاڑی کی ترسیل کے اوقات اور ڈیلیوری ٹائم کو غور سے دیکھنا چاہیے۔ غیر مجاز پریمیم یا 'اون منی' سے بچنے کے لیے ہمیشہ کار ساز کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ سے بکنگ کی معلومات لیں۔ بینکوں کے لیزنگ ریٹس کا موازنہ کریں تاکہ آپ کو بہتر فنانسنگ پیکج مل سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

ماہرینِ معیشت اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا فروخت میں یہ 141 فیصد اضافہ اگلے مہینوں میں بھی برقرار رہے گا یا نہیں۔ آپ کو آنے والے مہینوں میں PAMA کی ماہانہ رپورٹس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور حکومتی ٹیکس پالیسیوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ مارکیٹ کے اگلے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔