پاکستان کو اپنی دفاعی اور اسٹریٹجک خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے ایئر اسپیس ٹیکنالوجی میں خود کفالت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانا ہوگا۔ غیر ملکی دفاعی آلات پر زیادہ انحصار کم کرنے اور مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے ماہرین نے ایک اہم آن لائن سیشن میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
سینٹر فار ایئر اسپیس اینڈ سیکیورٹی سٹیز (کیس)، اسلام آباد نے 4 اگست 2026 کو 'ایئر اسپیس ٹیکنالوجی کی خود کفالت' کے عنوان سے ایک آن لائن کیٹلسٹ کنورزیشن کا انعقاد کیا۔ اس اعلیٰ سطحی تعلیمی و دفاعی مباحثے میں ایوی ایشن کے ماہرین، دفاعی تجزیہ کاروں اور تکنیکی محققین نے شرکت کی تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے درکار چیلنجز کا احاطہ کیا جا سکے۔ گفتگو کا بنیادی محور یونیورسٹیوں میں ہونے والی سائنسی تحقیق اور دفاعی اداروں کے درمیان حائل خلیج کو ختم کرنا تھا۔
ایئر اسپیس ٹیکنالوجی میں خود کفالت کیوں ضروری ہے؟
عالمی سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے پاکستان کے لیے ہوابازی کے شعبے میں خود انحصاری کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ اہم ایویونکس، ریڈار کے پرزے اور طیاروں کے اسپیئر پارٹس درآمد کرنے سے جہاں قیمتی زرمبادلہ ضائع ہوتا ہے وہیں دفاعی ساز و سامان کے لیے بیرونی دباؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ کیس کے سیمینار میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی اسٹریٹجک خود مختاری کے لیے سرکاری اداروں اور نجی ٹیک کمپنیوں کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔
مباحثے کے اہم نکات درج ذیل تھے:
- پاکستان ایئر فورس اور قومی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے درمیان ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک کو تیز کرنا۔
- ہوابازی کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اسٹارٹ اپس کے لیے خصوصی مالیاتی گرانٹس اور ٹیکس مراعات کا اجرا۔
- مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان کے اندر ہی معیاری سرٹیفیکیشن فریم ورک بنانا۔
- اعلیٰ درجے کی ایئر اسپیس مینوفیکچرنگ کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کی غرض سے تکنیکی تربیتی پروگراموں کو اپ گریڈ کرنا۔
مقامی مینوفیکچرنگ میں درپیش رکاوٹیں
مقامی سطح پر ایئر اسپیس انڈسٹری کا قیام اتنا آسان نہیں ہے، خاص طور پر جب جدید مشینری کی قیمتیں زیادہ ہوں اور بین الاقوامی برآمدی پابندیاں سخت ہوں۔ شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ پاکستان نے کامرہ میں موجود پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس جیسے اداروں کے ذریعے قابل قدر پیش رفت کی ہے، تاہم مسابقتی کمرشل مارکیٹ بنانے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔ نجی انجینئرنگ فرموں کو اکثر مہنگے خام مال تک رسائی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ کامیاب خود کفالت کے لیے صرف فوجی کارخانوں تک محدود رہنا کافی نہیں بلکہ ایک فعال تجارتی ایکو سسٹم کی ضرورت ہے۔ جب مقامی یونیورسٹیاں اور نجی سافٹ ویئر ہاؤسز ایویونکس کی تیاری میں حصہ لیں گے تو اس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ قیمتی روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
قارئین کے لیے آگے دیکھنے کی باتیں
پاکستان کے پالیسی سازوں، دفاعی امور کے شائقین اور ٹیک کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے اب اگلا قدم یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس اور دیگر تھنک ٹینکس ان تجاویز کو عملی پالیسیوں میں کیسے ڈھالتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دفاعی خریداری کی نئی پالیسیوں، اعلیٰ تعلیم کے تحقیقی بجٹ اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے اقدامات پر نظر رکھیں۔ جیسے جیسے عالمی ایوی ایشن کے معیارات بدل رہے ہیں، اسلام آباد کی جانب سے ان اقدامات پر عمل درآمد کی رفتار ہی ملک کا مستقبل طے کرے گی۔
