مقابلہ کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے چیئرمین فرید احمد تارر نے کہا ہے کہ ملک میں پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے منصفانہ مقابلے اور مارکیٹ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک کاروباری ادارے اور عام شہری مسابقتی قوانین سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے، ملک میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
مہنگائی اور گرانی کے اس دور میں عام آدمی آٹا، چینی، گھی اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی اونچی قیمتوں سے پریشان ہے۔ جب چند طاقتور ادارے مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں تو اشیاء کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی جاتی ہیں، جس کا براہ راست نقصان عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سی سی پی کا بنیادی کام ایسے کارٹیلز اور غیر منصفانہ طریقوں کو روکنا ہے، لیکن بدقسمتی سے عوام اور چھوٹے تاجروں میں ان قوانین سے متعلق آگاہی کی کمی ہے۔
آپ کی جیب پر مارکیٹ کے فیصلوں کا اثر
اگر آپ کراچی، لاہور یا پشاور میں کوئی چھوٹا کاروبار چلاتے ہیں یا روزمرہ کی خریداری کرتے ہیں، تو آپ کو آئے دن مارکیٹ میں بگاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارٹیلز قیمتیں طے کر کے نئے اور چھوٹے تاجروں کو مارکیٹ سے باہر کر دیتے ہیں جو کم قیمت پر بہتر متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ فرید احمد تارر کا کہنا تھا کہ جب تک تاجر برادری اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوگی، ریگولیٹری ادارے اکیلے ہر شعبے کی مانیٹرنگ نہیں کر سکتے۔
شفاف مارکیٹ سے نہ صرف مقامی صارفین کو ریلیف ملتا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ بین الاقوامی کمپنیاں ہمیشہ ایسے ممالک کا رخ کرتی ہیں جہاں قوانین سب کے لیے برابر ہوں۔
ریگولیٹر کو درپیش اہم چیلنجز
کمیشن کو مختلف معاشی شعبوں کی نگرانی میں کئی قسم کی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں درج ذیل امور شامل ہیں:
- عدالتوں میں طویل قانونی چارہ جوئی جس کی وجہ سے جرمانے اور فیصلے برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں۔
- شہریوں میں غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف شکایت درج کرانے سے متعلق شعور کی کمی۔
- با اثر کاروباری گروہوں کی طرف سے سخت جانچ پڑتال کے خلاف مسلسل لابیئنگ۔
اگر پاکستان کو کرپشن اور اجارہ داری سے نکال کر پیداواری معیشت بنانا ہے تو ان رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو اپنے علاقے یا کاروبار میں کسی قسم کی قیمتوں کی ملی بھگت یا اجارہ داری کا شبہ ہو تو خاموش نہ رہیں۔ آپ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں سی سی پی کے دفاتر سے رجوع کر سکتے ہیں یا ان کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے باضابطہ شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ ثبوت کے ساتھ شکایت جمع کرانے سے ریگولیٹرز کو کارروائی کرنے میں مدد ملتی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وفاقی حکومت سی سی پی کو قانونی طور پر مزید بااختیار بناتی ہے یا نہیں تاکہ عدالتوں میں پھنسے ہوئے مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے۔ کارٹیلز کے خلاف آنے والے فیصلے پاکستان کے کاروباری مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔
