کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور نکاسی آب کے نظام کی ناکامی کو روکنے کے لیے ایک جامع دیہی ویسٹ مینجمنٹ پلان کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جس کے دوران نکاسی کے نالے بند ہونے سے کئی دیہی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
برسوں سے وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں کچرا اٹھانے کا کوئی باقاعدہ سرکاری نظام موجود نہیں تھا۔ اس خلا کی وجہ سے مقامی ندی نالوں میں بڑے پیمانے پر کچرا پھینکا گیا، جس نے بالاآخر حالیہ سیلابی تباہی کی شکل اختیار کر لی۔ اس نئے منصوبے کا مقصد شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بلدیاتی سہولیات کے فرق کو ختم کرنا ہے۔
اس نئے صفائی کے ماڈل کے بارے میں اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- احاطہ کیے جانے والے علاقے: اسلام آباد کی تمام بڑی دیہی یونین کونسلیں بشمول بھارہ کہو، کورال، کھنہ، سوہان اور ترنول۔
- بنیادی مقصد: قدرتی ندی نالوں میں کچرا پھینکنے کے عمل کو روکنے کے لیے گھر گھر سے باقاعدگی سے کچرا جمع کرنا۔
- ٹھیکہ جات: سی ڈی اے مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے نجی کمپنیوں کو صفائی کے خدمات کے ٹھیکے دے گا۔
- سیلاب سے بچاؤ: کچرا اٹھانے کی مہم کے ساتھ ساتھ بڑے قدرتی نالوں کی صفائی اور بھل صفائی کا کام بھی کیا جائے گا۔
دیہی علاقوں میں ویسٹ مینجمنٹ کی فوری ضرورت
اسلام آباد کے مضافات میں کچرا ٹھکانے لگانے کے منظم نظام کی عدم موجودگی کے سنگین نتائج سامنے آئے ہیں۔ حالیہ مون سون کے دوران، دیہی اسلام آباد کے کئی رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ پلاسٹک کے کچرے سے بند نالوں کی وجہ سے بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے املاک کو نقصان پہنچا اور روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔
اس نئے ویسٹ مینجمنٹ فریم ورک کے ذریعے، سی ڈی اے ان مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹھوس کچرے کا جمع ہونا نہ صرف بدنمائی کا باعث تھا بلکہ یہ صحت عامہ کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا تھا، جس سے ڈینگی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیل رہی تھیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سی ڈی اے اتنے بڑے پیمانے پر دیہی زونز میں بلدیاتی صفائی کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
نئے سالڈ ویسٹ سسٹم کی اہم خصوصیات
منظور شدہ منصوبہ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے شہری سیکٹرز میں رائج ویسٹ مینجمنٹ ماڈل کی دیہی علاقوں میں بھی نقل کی جا سکے۔ نئے رہنما خطوط کے تحت، سی ڈی اے دیہی علاقوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کرے گا تاکہ نجی ٹھیکیداروں کو کام سونپا جا سکے۔
یہ ٹھیکیدار کچرا دان نصب کرنے، سینیٹری ورکرز کی تعیناتی اور کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کے ذریعے کچرے کو عارضی لینڈ فل سائٹس تک منتقل کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ سی ڈی اے جدید ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے ان ٹھیکیداروں کی کارکردگی کی نگرانی کرے گا تاکہ کچرے کو باقاعدگی سے اٹھایا جانا یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، اس منصوبے میں رہائشی علاقوں کے قریب قائم کچرے کے غیر قانونی ڈھیروں کو صاف کرنے کی مہم بھی شامل ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات اور ممکنہ اخراجات
اگر آپ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، تو یہ منصوبہ آپ کے گھر کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے طریقے کو بدل دے گا۔ اب آپ کو کچرا جلانے یا غیر منظم نجی خاکروبوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اگرچہ اس سروس کا مقصد آپ کے علاقے کو صاف رکھنا ہے، لیکن آنے والے وقت میں اس سروس کے عوض آپ کے یوٹیلیٹی بلز یا پراپرٹی ٹیکس میں معمولی صفائی فیس شامل کی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ کچرا جمع کرنے کے مقررہ اوقات کی پابندی کریں اور گلیوں کے کھلے نالوں میں پلاسٹک کے تھیلے پھینکنے سے گریز کریں۔ نالوں کو صاف رکھنا اب ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ اگلی بارشوں میں سیلابی صورتحال سے بچا جا سکے۔
اگلے مراحل اور عملدرآمد کا شیڈول
سی ڈی اے بورڈ نے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، لیکن اصل امتحان اس پر عملدرآمد ہے۔ آنے والے ہفتوں میں، اتھارٹی کی جانب سے تجربہ کار ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں سے بولیاں طلب کرنے کے لیے ٹینڈرز جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
شہریوں کو اپنے علاقوں میں اس سروس کے باقاعدہ آغاز اور ٹھیکوں کی تفصیلات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس کے علاوہ، سردیوں کی بارشوں سے پہلے نالوں کی صفائی کی پیش رفت سے یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ منصوبہ دیہی اسلام آباد کو سیلاب سے بچانے میں کتنا سودمند ثابت ہوتا ہے۔ شہری مزید معلومات اور شکایات کے لیے سی ڈی اے کے آفیشل پورٹل cda.gov.pk پر رجوع کر سکتے ہیں۔
