سی ڈی اے نیلامی کے پہلے روز اسلام آباد میں چار قیمتی تجارتی پلاٹس کی فروخت سے مجموعی طور پر 13.806 ارب روپے حاصل ہوئے۔ جناح کنونشن سینٹر میں جاری اس نیلامی کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست مسابقت دیکھنے میں آئی۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پہلے ہی روز بڑے کارپوریٹ اداروں اور رئیل اسٹیٹ کے نامور کھلاڑیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے معاشی چیلنجز کے باوجود بڑی کاروباری شخصیات اب بھی جائیداد میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔
بولی کے عمل کی تفصیلات
نیلامی کے آغاز سے ہی کاروباری زونز کے پلاٹس کے لیے سخت مقابلہ شروع ہو گیا۔ اتھارٹی نے مختلف تجارتی مقامات کو بولی کے لیے پیش کیا، تاہم زیادہ تر توجہ کثیر المنزلہ عمارتوں کے لیے مخصوص ان پلاٹس پر رہی جہاں بلند و بالا تعمیرات کی اجازت ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار خریداروں کی دلچسپی توقع سے زیادہ رہی اور کئی بڑے گروپس نے مطلوبہ زمین حاصل کرنے کے لیے منہ مانگی بولیاں لگائیں۔
- پہلے روز چار اہم تجارتی پلاٹس کامیابی سے فروخت ہو گئے۔
- ایک دن میں حاصل ہونے والی کل رقم 13.806 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
- باقی رہ جانے والے رہائشی اور تجارتی پلاٹس کے لیے بولی کا سلسلہ جاری ہے۔
- سخت مالیاتی شرائط اور ب在نہ کی شرط نے غیر سنجیدہ خریداروں کو باہر رکھا۔
اسلام آباد رئیل اسٹیট مارکیٹ پر اس کے اثرات
جب سرکاری زمین اتنی بھاری قیمتوں پر بکے تو اس سے دارالحکومت کے پراپرٹی سیکٹر کا رخ واضح ہو جاتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سرمایہ کار کمرشل زمین کو مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ ڈھال سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف عام شہریوں کے لیے یہ بلند قیمتیں اس بات کی علامت ہیں کہ تجارتی اور رہائشی جائیدادیں اب متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
حاصل ہونے والی رقم کا استعمال
شہری اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اس طرح کی اربوں روپے کی آمدنی سے شہر کے بنیادی ڈھانچے میں کیا بہتری آتی ہے۔ قواعد کے مطابق اس رقم کو شہر میں ترقیاتی کاموں، سڑکوں کی مرمت اور پانی کے منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ ماضی میں فنڈز کے درست استعمال پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اس لیے انتظامیہ پر دباؤ ہوگا کہ وہ اس بار زمینی حقائق پر نظر آنے والے ترقیاتی کام یقینی بنائے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ پراپرٹی مارکیٹ پر نظر رکھتے ہیں یا سرکاری نیلامیوں میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اس نیلامی کے بقیہ دنوں کی کارروائی پر گہری نظر رکھیں۔ ان فروخت ہونے والے پلاٹس کے اردگرد پراپرٹی کی قیمتوں میں تبدیلی متوقع ہے، اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے زوننگ کے قوانین اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال ضرور کریں۔
