کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سینی ٹیشن ورکرز نے cda sanitation privatization کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی نوکریوں اور حقوق کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔ سی ڈی اے مزدور یونین کی کال پر سیکڑوں سینیٹری ورکرز، سویپرز اور فیلڈ عملے نے ہیڈ کوارٹر کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں نجکاری کے منصوبے کو فوری طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس احتجاج کے باعث قریبی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانگی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی۔
ملازمین کے تحفظات اور خدامات
یونین کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ میونسپل خدمات کو نجی ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے سے ملازمین کا معاشی استحصال شروع ہو جائے گا۔ موجودہ نظام کے تحت سینی ٹیشن عملہ مشکل حالات، شدید گرمی اور بارشوں میں بھی فیلڈ میں موجود رہتا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت کو صاف رکھا جا سکے۔ نجکاری کی صورت میں ملازمین سے مستقل ملازمت کا تحفظ چھن جانے کا خطرہ ہے، جو کہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
- مستقل ملازمتوں کا خاتمہ اور ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنا
- کم سے کم اجرت اور حفاظتی سامان کی فراہمی میں کٹوتی کا خدشہ
- یونین سازی اور اجتماعی حقوق کا خاتمہ
- اسلام آباد کے سیکٹرز میں صفائی کے معیار کا گر جانا
رہنماؤں کے دوٹوک اعلانات
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین اور صدر اورنگزیب نے کہا کہ سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کا فیصلہ ملازمین کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے شہر تک پھیلا دیا جائے گا اور کسی قسم کی ہڑتال کی تمام تر ذمہ داری سی ڈی اے انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
اگر آپ اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو اس مزدور احتجاج کی وجہ سے آپ کے علاقے میں کوڑے اٹھانے کے معمول کے اوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ہڑتال یا ٹول ڈاؤن کی صورت میں اپنے محلے میں صفائی کے انتظامات پر نظر رکھیں اور میونسپل انتظامیہ سے مطالبہ کریں کہ وہ مزدوروں کے مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالے۔
آگے کیا متوقع ہے
مظاہرے کے بعد سی ڈی اے انتظامیہ اور یونین قیادت کے درمیان مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اتھارٹی نجکاری کے فیصلے پر قائم رہتی ہے یا ملازمین کے دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے ٹینڈر کے عمل کو معطل کرتی ہے۔ اگلے چند روز میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
