سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے کراچی کے لیے انتہائی اہم K-IV پانی کے منصوبے کی 172 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دے دی ہے، جس سے شہر کو درپیش پانی کے شدید بحران کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ karachi k-iv project کو اب جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
منصوبے کی تفصیلات اور حالیہ تبدیلیاں
یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب اس منصوبے کی لاگت میں گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً 1,000 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ شروع میں بہت وسیع پیمانے پر شروع کیا گیا تھا، لیکن موجودہ مرحلے میں اس کی استعداد کو کم کر کے 260 ملین گیلن یومیہ (MGD) تک محدود کر دیا گیا ہے۔
یہ کمی کراچی کے شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے جنہیں طویل عرصے سے پانی کی فراہمی کے بڑے وعدے کیے گئے تھے۔ 172 ارب روپے کی یہ رقم دریائے سندھ سے کراچی تک پانی پہنچانے کے لیے درکار انفراسٹرکچر کی تکمیل کے لیے مختص کی گئی ہے۔
دیگر قومی ترقیاتی منصوبے
CDWP کے اجلاس میں K-IV کے علاوہ 81 ارب روپے مالیت کے چھ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا مقصد ملک بھر میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ، ایک اسپیس سینٹر کے قیام سے متعلق منصوبے کو حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (Ecnec) کو بھیج دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اب ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
کراچی کے رہائشیوں کے لیے کیا اہمیت ہے؟
اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں، تو karachi k-iv project کی جون 2026 کی ڈیڈ لائن آپ کے لیے سب سے اہم ہے۔ ماضی میں تاخیر کے شکار اس منصوبے کے لیے یہ ہدف کافی چیلنجنگ ہے۔ شہریوں کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا پمپنگ اسٹیشنز اور نہروں کی لائننگ کا کام مقررہ وقت پر مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
فی الحال، یہ منصوبہ نفاذ کے مرحلے میں ہے۔ پانی کی قلت کا فوری حل تاحال موجود نہیں ہے، لیکن 172 ارب روپے کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ فنڈز کی دستیابی اب ممکن ہو سکے گی۔ آنے والے دنوں میں Ecnec کے اجلاسوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ منصوبے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اعلان وہیں سے متوقع ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
- منصوبہ بندی اور ترقی کی وزارت کی آفیشل ویب سائٹ پر پیش رفت کی رپورٹس چیک کرتے رہیں۔
- اس بات پر نظر رکھیں کہ سندھ حکومت کو فنڈز کی منتقلی کب ہوتی ہے، کیونکہ اس منصوبے پر زمینی سطح پر کام سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- مقامی واٹر یوٹیلیٹی کے اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں، کیونکہ 260 MGD پانی کی فراہمی کے لیے شہر کے اندرونی پائپ لائن نیٹ ورک کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
