کراچی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے اندوہناک واقعات کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ بچوں اور خواتین سمیت تقریبا 100 افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں 17 بچے اور 10 خواتین بھی شامل ہیں جو کہ گھروں کے اندر یا گلیوں میں موجود تھے جب ہوائی فائرنگ کے دوران گرنے والی آوارہ گولیاں انہیں جا لگیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں
شہر میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہوائی فائرنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں کم از کم 30 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے متعدد غیر قانونی ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہرائے گئے انتباہات کے باوجود اس مہلک روایت کا جاری رہنا لمحہ فکریہ ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اگر آپ اپنے محلے میں ہوائی فائرنگ ہوتے دیکھیں تو براہ راست مداخلت کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملزمان مسلح ہوتے ہیں۔ فوری طور پر پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر کال کریں یا مددگار ایپ کے ذریعے اطلاع دیں۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں تاکہ آوارہ گولیوں سے بچا جا سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے دنوں میں اس بات پر نظر رکھیں کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف عدالتوں میں کیا کارروائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اسلحے کے خلاف شروع کی جانے والی مہم اور سکیورٹی اقدامات کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہیں۔
