EDB کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں ان کے خلاف قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کمیٹی کی تشکیل میں قانونی خامیوں اور دائرہ اختیار کی کمی ہے۔

منصور کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ کمیٹی کو ان کی بطور سی ای او کارروائیوں کی تحقیقات کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ یہ درخواست 12 جون 2025 کو دائر کی گئی ہے اور اس میں فوری عدالتی حکم نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ کمیٹی کی کارروائی کو روکا جا سکے جب تک کہ عدالت اس کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہ دے دے۔

EDB وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے جو انجینئرنگ صنعتوں کو فروغ دینے، برآمدات کو آسان بنانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ذمہ دار ہے۔ تحقیقات کا سلسلہ منصور کے دور میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سے شروع ہوا ہے، تاہم ابھی تک کوئی رسمی الزامات عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔

  • درخواست دائر ہونے کی تاریخ: 12 جون 2025
  • عدالت: اسلام آباد ہائی کورٹ
  • کمیٹی کی حیثیت: تحقیقاتی کارروائی جاری، لیکن منصور نے روک تھام کا مطالبہ کیا
  • EDB کا کردار: وزارت صنعت و پیداوار کے تحت وفاقی ادارہ
  • الزام: بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال (تفصیلات غیر معلن)

پاکستان کی صنعت کے لیے اہمیت

EDB پاکستان کی انجینئرنگ برآمدات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو مالی سال 2023-24 میں 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں، جیسا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔ ایسے اہم ادارے میں قیادت میں خلل کسی بھی پالیسی کے نفاذ، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور شعبے کی ترقی کو سست کر سکتا ہے۔

صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائیاں طویل ہونے سے ایس آئی ایف سی (خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل) کے تحت چلنے والے اہم منصوبوں میں تاخیر ہو سکتی ہے، جو غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

درخواست میں قانونی دلائل

منصور کی درخواست میں تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل میں کئی قانونی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے:

  • تحقیقاتی کمیٹی کے لیے اصولی حوالہ جات (ToR) کا فقدان
  • EDB یا منصور کو کمیٹی کے قیام سے پہلے سرکاری نوٹیفکیشن نہ ہونا
  • کمیٹی کے اراکین میں حیثیت کا تضاد کا شبہ
  • وفاقی ملازمین کے سروس رولز کی خلاف ورزی

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا دائرہ اختیار اس کے دائرہ کار سے تجاوز کرتا ہے، کیونکہ یہ ڈسپلنری تحقیقات چلا رہی ہے لیکن سول سروسز ایکٹ 1973 کے تحت طے شدہ قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کر رہی۔

آگے کیا ہوگا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک کوئی روک تھام کا حکم جاری نہیں کیا ہے، لیکن اس کیس کی پہلی سماعت 25 جون 2025 کو ہوگی۔ اگر عدالت نے روک تھام کا حکم دے دیا تو تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی معطل ہو جائے گی جب تک کہ درخواست پر فیصلہ نہ ہو جائے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس وفاقی ملازمین کے خلاف تحقیقات کے طریقہ کار پر ایک مثالی فیصلہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر عدالت منصور کے حق میں فیصلہ دے دیتی ہے تو یہ سول سروسز کو سیاسی طور پر متاثرہ تحقیقات سے تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ اس کے برعکس فیصلہ حکومت کو قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

آپ کو کیا معلوم ہونا چاہیے

  • اگر آپ ایک سرمایہ کار یا برآمد کنندہ ہیں: EDB کی قیادت کی استحکام پالیسیوں کی مسلسل پر تاثیر کرتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر رکھیں۔
  • اگر آپ ایک وفاقی ملازم ہیں: یہ کیس غیر منصوبہ بند تحقیقات کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنی تمام رسمی کارروائیوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ رکھیں اور سروس رولز کے مطابق عمل کریں۔
  • اگر آپ پاکستان کی معیشت پر نظر رکھتے ہیں: ایسے اہم اداروں میں خلل برآمدات کے ہدف اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اہم تاریخیں جن پر نظر رکھیں

  • 12 جون 2025: درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر
  • 25 جون 2025: پہلی سماعت
  • تاریخ غیر معین: ممکنہ عدالتی حکم یا حتمی فیصلہ

اپ ڈیٹس کہاں سے حاصل کریں

  • اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ: ihc.gov.pk
  • وزارت صنعت و پیداوار: moip.gov.pk
  • EDB کی سرکاری ویب سائٹ: edb.gov.pk

ماہرین کا کیا کہنا ہے

قانونی تجزیہ کار احمد جمال کا کہنا ہے، "یہ کیس پاکستان کی بیوروکریسی میں قانون کی حکمرانی کے اہم سوال اٹھاتا ہے۔ اگر عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ کمیٹی غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھی، تو یہ حکومت کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ سینئر افسران کے خلاف تحقیقات کے طریقہ کار پر دوبارہ غور کرے۔"

معیشت دان زارا خان کا کہنا ہے، "EDB جیسی اداروں میں استحکام برآمدات کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی بھی طرح کی عدم یقینی سرمایہ کاروں کو ہچکچاہٹ کا شکار بنا سکتی ہے جو پیشن گوئی کے قابل پالیسیوں پر انحصار کرتے ہیں۔"

اصل بات

یہ صرف ایک قانونی جنگ نہیں ہے—یہ یہ جاننے کا امتحان ہے کہ کیا پاکستان کے ادارے منصفانہ اور شفاف تحقیقات کر سکتے ہیں بغیر کسی حد سے تجاوز کیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سول سروسز، سرمایہ کاروں اور عوام کو حکومت کی قانونی طریقہ کار کے عزم کے بارے میں ایک اشارہ دے گا۔

فی الحال EDB کا کام جاری ہے، لیکن منصور کی قانونی چیلنج حکومت کی مستقبل کی تحقیقات کے طریقہ کار کو نئی شکل دے سکتی ہے۔