بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن اور خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہونے والے الگ الگ دستی بم حملوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق جبکہ سات زخمی ہو گئے۔ ان حملوں نے دور دراز علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
چمن اور لکی مروت کے حملوں کی تفصیلات
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے چمن میں قومی شاہراہ کی تعمیر پر مامور مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مزدور گہری نیند سو رہے تھے کہ نامعلوم ملزمان نے ان کے کیمپ پر دستی بم پھینک دیا۔ اس اچانک دھماکے سے موقع پر ہی افرا تفری پھیل گئی اور متعدد مزدور شدید زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں بھی ایسا ہی ایک اور ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق لکی مروت میں ہونے والے دستی بم حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے مجموعی طور پر تین افراد جان کی بازی ہار گئے اور کل زخمیوں کی تعداد سات تک جا پہنچی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متعدد زخمیوں کو جسم کے مختلف حصوں میں بم کے چھرے لگے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا ردعمل اور تحقیقات
واقعات کی اطلاع ملتے ہی پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار دونوں مقامات پر پہنچ گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشنز شروع کر دیے گئے ہیں۔ تاحال کسی بھی کالعدم تنظیم یا گروہ کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے، تاہم انٹیلی جنس ایجنسیاں تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔
ملک میں قومی شاہراہوں اور ترقیاتی کاموں پر کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتیں اب سیکیورٹی پلان کا از سر نو جائزہ لے رہی ہیں۔ تعمیراتی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مزدوروں کے رہائشی کیمپوں کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کریں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے اور آگے کیا متوقع ہے
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز چمن، لکی مروت یا کسی بھی حساس علاقے میں تعمیراتی یا فیلڈ کے کام سے وابستہ ہے، تو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں۔
آنے والے دنوں میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی کے نئے ایس او پیز جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے ورثا کے لیے مالی امداد اور زخمیوں کو بہتر طبی امداد کی فراہمی کے سرکاری اعلانات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
