بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی معروف تنظیم ساحل کی جانب سے جاری کردہ ہولناک اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بچوں کے خلاف ہونے والے ان جرائم میں اغوا، جسمانی تشدد اور زیادتی کے سنگین ترین واقعات شامل ہیں جن نے ایک بار پھر معاشرتی اور ریاستی ڈھانچے پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے حلقوں کے نزدیک یہ اعداد و شمار صرف ان چند واقعات کی عکاسی کرتے ہیں جو پولیس یا متعلقہ اداروں تک پہنچ پاتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ، خوف اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب بھی بہت سے خاندان ایسے گھناؤنے جرائم کی رپورٹنگ سے گریز کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اصل صورتحال مزید بھیانک ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم کی شرح سب سے زیادہ
ساحل کی ششماہی رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ان مجموعی 1914 کیسز میں پنجاب تمام صوبوں میں سرفہرست رہا ہے۔ آبادی کے تناسب اور انتظامی ڈھانچے کی کمزوریوں کی وجہ سے پنجاب کے مختلف اضلاع سے بچوں کے اغوا اور زیادتی کی کثیر تعداد سامنے آئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی سطح پر بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
صوبہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بھی بچوں کے خلاف جرائم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم مجموعی تناسب میں پنجاب کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس تفتیش میں تاخیر اور ملزمان کو کٹہرے میں لانے میں سستی ان جرائم میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
- ملک بھر میں کل رپورٹ شدہ کیسز: 1914 (جنوری سے جون 2026ء)
- رپورٹ جاری کرنے والی تنظیم: ساحل (بچوں کے تحفظ کی فلاحی تنظیم)
- سرفہرست صوبہ: پنجاب
- جرائم کی نوعیت: زیادتی، اغوا اور دیگر سنگین جرائم
والدین اور شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اس سنگین صورتحال میں صرف حکومتی اداروں پر انحصار کرنا ناکافی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھیں تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا اجنبی کی مشکوک حرکات بلا جھجھک شیئر کر سکیں۔ اگر آپ کو کسی بھی بچے کے ساتھ زیادتی یا استحصال کا شک گزرے، تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں یا چائلد پروٹیکشن ہیلپ لائن 1121 پر کال کر کے اطلاع دیں۔
آگے کیا متوقع ہے؟
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے حکومتی حلقوں پر دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا پنجاب اور دیگر صوبائی حکومتیں بچوں کے تحفظ کے قوانین کو مزید سخت کرتی ہیں یا نہیں، اور کیا پولیس محکمے تفتیشی نظام میں بہتری لانے کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہیں۔
