چین میں طوفان 'ڈولفن' کے خطرے کے پیش نظر 1,000 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، کیونکہ یہ طاقتور طوفانی نظام ملک کے مشرقی ساحل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے اور بڑے شہروں میں آبادی کا بڑے پیمانے پر انخلا شروع کر دیا گیا ہے تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
طوفان ڈولفن کا خطرہ اور صورتحال
چینی محکمہ موسمیات نے ساحلی علاقوں کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری کر دیا ہے، جس کے بعد شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ طوفان کی شدت کے باعث بڑے پیمانے پر فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سفر کرنے والے مسافر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستانی شہری جو چین میں موجود ہیں یا وہاں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
- فضائی آپریشن: 1,000 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
- ہنگامی اقدامات: ساحلی علاقوں سے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
- وارننگ: متعلقہ حکام کی جانب سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
حفاظتی اقدامات اور ہدایات
مقامی انتظامیہ نے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ سیلابی صورتحال اور طوفانی لہروں کے خطرے کے پیش نظر ساحل کے قریب جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر آپ یا آپ کے اہل خانہ چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں مقیم ہیں، تو براہ کرم مقامی میڈیا اور حکومتی نوٹیفکیشنز پر گہری نظر رکھیں۔
مسافروں کے لیے ضروری مشورہ
اگر آپ کا چین کے لیے یا وہاں سے کوئی سفر شیڈول ہے، تو ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن کی ویب سائٹ یا کسٹمر سپورٹ کے ذریعے اپنی فلائٹ کا سٹیٹس ضرور چیک کریں۔ ایئرلائنز کی جانب سے متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ ری بک کروانے یا ریفنڈ حاصل کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ کسی بھی قسم کی غلط معلومات سے بچنے کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹس پر انحصار کریں۔
آئندہ کے حالات
طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا جائے گا، جس کے بعد معمولات زندگی کی بحالی کا عمل شروع ہوگا۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ طوفان سے بنیادی ڈھانچے کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ صورتحال پر نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی سفارتخانے یا ایمرجنسی نمبرز سے رابطہ قائم رکھیں۔
