چین کے صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو میں دنیا کا پہلا ایسا سکول قائم کیا گیا ہے جو خصوصی طور پر روبوٹس کی تربیت کے لیے وقف ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشینوں کو کارخانوں سے نکال کر انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں عملی طور پر استعمال کے قابل بنانا ہے۔
روبوٹس کی عملی تربیت کا آغاز
ابتدائی مرحلے میں اس سکول میں 30 روبوٹس کو تربیت دی جا رہی ہے۔ ان روبوٹس کو چار اہم شعبوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جن میں صنعتی کام، سروس انڈسٹری، سکیورٹی، اور تفریحی شعبے شامل ہیں۔ اس سکول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں روبوٹس کو صرف کوڈنگ نہیں سکھائی جا رہی، بلکہ انہیں حقیقی زندگی کے حالات میں کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی پیش رفت
یہ سکول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں روبوٹکس کا شعبہ صرف ہارڈ ویئر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے روبوٹس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ ہانگژو میں ہونے والا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ آنے والے وقت میں روبوٹس ہسپتالوں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتے نظر آئیں گے۔
مستقبل میں کیا متوقع ہے؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہانگژو کا یہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو ایشیا کے دیگر صنعتی مراکز میں بھی اسی طرح کے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے شعبے پر نظر رکھتے ہیں۔
- پہلے مرحلے میں 30 روبوٹس کی تربیت جاری ہے۔
- تربیت کے شعبے: انڈسٹریل، سکیورٹی، سروس اور تفریح۔
- مقام: ہانگژو، چین۔
