چین اور پاکستان نے 500 ملین روپے کے پانچ سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد کپاس کی تحقیق کو تیز کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پہلی کڑی کے طور پر 100 ملین روپے کی رقم محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر، ملتان (MNSUAM) کو جاری کر دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ چائنا اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز (CAAS) کے انسٹی ٹیوٹ آف کپاس ریسرچ (ICR) اور MNSUAM کے درمیان 12 ستمبر 2024 کو ملتان میں طے پایا ہے۔
اس اشتراک کا مقصد تین اہم شعبوں پر کام کرنا ہے: اعلیٰ پیداوار اور کیڑوں سے مزاحم کپاس کی نئی اقسام تیار کرنا، جدید کاشت کاری کی تکنیکوں کا تبادلہ کرنا، اور پاکستانی محققین کو چین کے جدید کپاس لیبز میں تربیت فراہم کرنا۔ پاکستانی سائنسدان چین کے کپاس ریسرچ اسٹیشنوں ایانیانگ اور شِہِزئی میں عملی تربیت حاصل کریں گے، جبکہ چینی ماہرین پنجاب کے کپاس کے کھیتوں کا دورہ کریں گے تاکہ مقامی چیلنجز جیسے سفید مکھی کے حملے اور پانی کی کمی کا جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستانی کسانوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے
کپاس پاکستان کی چوتھی بڑی نقد فصل ہے جو قومی جی ڈی پی کا 1.5 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور 15 لاکھ کاشتکار خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، جن میں سے زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ تاہم، پیداوار میں کمی کی وجہ سے یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔ فی ہیکٹر پیداوار تقریباً 700 کلوگرام ہے جو عالمی اوسط 900 کلوگرام فی ہیکٹر سے کم ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں کیڑوں کا حملہ، غیرمعمولی بارشیں اور پرانی کاشت کاری کی تکنیکیں شامل ہیں۔ نئے تحقیقی فنڈ کا مقصد اس رجحان کو پلٹنا ہے اور Bt کپاس کی نئی اقسام متعارف کرانا ہے جو گلابی کپاس کے کیڑے اور سفید مکھی کے خلاف مزاحمت رکھتی ہیں۔ ان کیڑوں سے کسانوں کو سالانہ 30 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
- پہلی مرحلہ (2024-2026): 100 ملین روپے کا استعمال پنج اقسام کی نئی کپاس کی فیلڈ ٹرائلز کے لیے ہوگا جو بہاولپور، ملتان اور رحیم یار خان اضلاع میں کھیلی جائیں گی۔ کسانوں کو مفت بیج اور کیڑوں سے بچاؤ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔
- دوسرا مرحلہ (2026-2028): 200 ملین روپے کا استعمال سندھ کے کپاس کے علاقوں جیسے میرپور خاص اور سانگھڑ میں ٹرائلز کو بڑھانے کے لیے ہوگا جہاں نمکینیت اور پانی بھراؤ بڑے مسائل ہیں۔
- تیسرا مرحلہ (2028-2029): 200 ملین روپے کا استعمال میکانیکی کپاس چننے اور پانی کی بچت والی سیراب کاری پر مرکوز ہوگا تاکہ چھوٹے کسانوں کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
چین کو اس سے کیا فائدہ ہے؟
چین کے لیے یہ شراکت ایک طویل المدتی کپاس سپلائی کا ذریعہ بننے کے لیے پاکستان کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ چین کا ٹیکسٹائل انڈسٹری سالانہ 27 ملین گانٹھیں کپاس استعمال کرتی ہے، جبکہ پاکستان فی الحال 12 لاکھ گانٹھیں برآمد کرتا ہے۔ معیار اور کم پیداوار کی وجہ سے چین کو امریکہ، بھارت اور برازیل سے کپاس درآمد کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان کی پیداوار میں بہتری سے چین کو اپنے آمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ معاہدہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا بھی حصہ ہے جس میں زرعی جدیدیت کو اہم ستون کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ پاکستانی محققین کو چین کے جین ایڈٹنگ ٹولز اور AI پر مبنی فصل نگرانی کے نظام تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ چینی فرمیں پاکستان کے ٹیکسٹائل پروسیسنگ زونز میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔
شامل ہونے کا طریقہ
اس منصوبے میں دلچسپی رکھنے والے کسان اور محقق ٹریننگ پروگرامز اور فیلڈ ٹرائلز کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواستیں MNSUAM کی ویب سائٹ www.mnsuam.edu.pk/cotton-mou کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ پہلی کھیپ کے 50 پاکستانی محققین جنوری 2025 میں چین کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ ICR کی لیبز میں تین ماہ کی تربیت حاصل کریں گے۔ اہلیت کے لیے ایگریکلچر میں بی ایس سی اور پاکستان کے کپاس سیکٹر میں کم از کم دو سال تک کام کرنے کا عہد نامہ ضروری ہے۔
کسانوں کے لیے MNSUAM مفت بیج کی تقسیم کے لیے اکتوبر 2024 میں رجسٹریشن کھولے گا۔ 5 ایکڑ سے کم زمین والے چھوٹے کسانوں کو ترجیح دی جائے گی۔ رجسٹریشن کے لیے اپنے قریبی ایگریکلچرل ایکسٹینشن آفس یا پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ www.agripunjab.gov.pk پر چیک کریں۔
آگے کیا توقع ہے
- اکتوبر 2024: پنجاب حکومت کسان کارڈ سکیم کے تحت نئے بیج اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈیوں کا اعلان کرے گی۔
- نومبر 2024: پنجاب اور ملتان میں نئی کپاس اقسام کے پہلے فیلڈ ٹرائلز کا آغاز ہوگا۔
- مارچ 2025: MNSUAM اور CAAS کی طرف سے سفید مکھی کے خلاف مزاحمت کے ٹیسٹ کے نتائج شائع کیے جائیں گے۔
- جون 2025: چینی ٹیکسٹائل فرمیں پنجاب کی گِننگ ملز کا دورہ کریں گی تاکہ شراکت داری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
- 2026: ابتدائی تحقیقی نتائج کی بنیاد پر قومی کپاس پالیسی میں ترمیم کی جائے گی۔
بڑا منظر نامہ
یہ معاہدہ پاکستان حکومت کی طرف سے کپاس سیکٹر کو بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے جس میں پچھلے دس سالوں میں 20 فیصد کاشت کاری میں کمی آئی ہے کیونکہ کپاس کو گنے اور چاول جیسی فصلوں سے مقابلہ کرنا پڑا ہے۔ ٹیکسٹائل ویژن 2025 پالیسی کا مقصد سالانہ 15 ملین گانٹھوں کی پیداوار کو بڑھانا ہے جو فی الحال 10 ملین گانٹھوں پر ہے۔ کامیابی سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، ٹیکسٹائل کی درآمدی لاگت میں کمی اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے غیر ملکی شراکتوں کی طرح اس منصوبے کے بھی عملی طور پر ناکام ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ سرکاری اداروں کی تاخیر اور ناکامی کا رجحان رہا ہے۔ اس بار MNSUAM اور CAAS نے تین ماہی پیش رفت جائزوں کا وعدہ کیا ہے جس میں قومی خوراک تحفظ اور تحقیق وزارت اور پنجاب ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ شامل ہوں گے۔
فی الحال، 500 ملین روپے کا یہ فنڈ ایک نادر روشنی کا نقطہ ہے جو ایک ایسے شعبے کو بہتر بنانے کی طرف ایک ٹھوس قدم ہے جو پاکستان کی زرعی جدوجہد کا علامتی نمائندہ رہا ہے اور چین پاکستان سائنسی تعاون کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
- کسان: 31 اکتوبر 2024 تک اپنے مقامی ایگریکلچرل ایکسٹینشن آفس یا آن لائن کے ذریعے مفت بیج اور تربیت کے لیے رجسٹر کریں۔
- طالب علم/محقق: 15 نومبر 2024 تک MNSUAM کے پورٹل کے ذریعے چین ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواست دیں۔
- ٹیکسٹائل انڈسٹری: 2025 میں پنجاب کی گِننگ ملز پر چینی فرموں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع پر نظر رکھیں۔
- پالیسی ساز: فنڈز کی بروقت روانگی اور شفاف نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالیں تاکہ یہ منصوبہ رک نہ جائے۔
یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو اگر بروقت نافذ کیا گیا تو واقعی لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔
