چین میں نقل و حمل کی ٹیکنالوجی نے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں میگلیو ٹرین نے ٹیسٹ ٹریک پر 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیران کن رفتار حاصل کر لی ہے۔ یہ تجربہ وسطی چین کے صوبہ ہوبے میں واقع ڈونگھو لیبارٹری میں کیا گیا، جہاں ایک کلومیٹر طویل ٹریک پر 1.1 ٹن وزنی تجرباتی ماڈل کو صرف 5.3 سیکنڈ میں اس رفتار تک پہنچایا گیا۔

میگلیو ٹرین ٹیکنالوجی کا کمال

عام ٹرینوں کے برعکس، میگلیو ٹرین ٹیکنالوجی مقناطیسی قوت کا استعمال کرتی ہے جس سے ٹرین پٹری سے اوپر فضا میں معلق رہتی ہے۔ رگڑ (friction) کا خاتمہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹرینیں ہوائی جہازوں کے قریب رفتار حاصل کر سکتی ہیں۔ ہوبے میں ہونے والا یہ کامیاب تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقناطیسی نظام انتہائی تیزی سے ایکسلریشن کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا بھر میں رفتار کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک برطانوی پائلٹ نے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑی کو 654 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار پر چلا کر ایک اور ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ تاہم، چین کا یہ میگلیو پروجیکٹ ریلوے کے شعبے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مستقبل میں مسافر بردار ٹرینوں کا سفر گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں ممکن ہو سکے گا۔

پاکستان اور مستقبل کی ٹیکنالوجی

اگرچہ پاکستان کا موجودہ ریلوے نظام روایتی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، لیکن عالمی سطح پر ہونے والی یہ پیش رفت مستقبل کے انفراسٹرکچر کے لیے اہم ہے۔ ایسے تجربات بتاتے ہیں کہ زمینی سفر کا مستقبل اب مقناطیسی قوت سے جڑا ہوا ہے۔

  • ٹیسٹ کا مقام: ڈونگھو لیبارٹری، ہوبے، چین
  • حاصل کردہ رفتار: 800 کلومیٹر فی گھنٹہ
  • ایکسلریشن کا وقت: 5.3 سیکنڈ
  • تجرباتی ماڈل کا وزن: 1.1 ٹن

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

محققین اب اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر مسافروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اگلا بڑا چیلنج ٹریک کی لمبائی بڑھانا اور طویل فاصلے تک اس رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی عام مسافروں کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ مزید ٹیکنالوجی اپ ڈیٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔