ایک چینی مینوفیکچرر نے پاکستان میں الیکٹرک رکشوں میں سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ پیشکش کی ہے جس کا مقصد روایتی ایندھن سے چلنے والی سواریوں کا ایک سستا اور ماحول دوست متبادل فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ملک کے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں کو پیٹرول اور سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرک رکشوں میں سرمایہ کاری کیوں ضروری ہے؟
لاہور، کراچی یا راولپنڈی جیسے شہروں میں رکشہ ڈرائیوروں کے لیے ایندھن کے اخراجات ان کی روزانہ کی کمائی کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ الیکٹرک پاور ٹرین پر منتقل ہونے سے آپریٹرز کے روزانہ کے اخراجات میں 60 سے 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ چینی کمپنی کی پیشکش کا مرکز مقامی تعاون ہے، جس میں صرف گاڑیاں درآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر اسمبلنگ پلانٹس لگانا شامل ہو سکتا ہے، جس سے آٹوموٹو سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
- اخراجات میں کمی: ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی۔
- ماحولیاتی اثرات: شہروں میں سموگ اور فضائی آلودگی میں کمی۔
- مقامی انضمام: ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی مینوفیکچرنگ کے امکانات۔
بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا حل
اگرچہ یہ پیشکش ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار چارجنگ انفراسٹرکچر کی دستیابی پر ہے۔ پاکستان میں فی الحال دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ کسی بھی سرمایہ کاری کے معاہدے میں حکومت کو اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر چارجنگ اسٹیشنز لگانے کے لیے مراعات دینی ہوں گی۔
اس کے علاوہ، حکومت کو لیتھیم آئن بیٹریوں اور ای وی کے اہم پرزوں کی درآمد پر اپنی پالیسی واضح کرنی ہوگی۔ ان پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی کی بلند شرح نے ماضی میں مقامی ای وی مارکیٹ کی ترقی کو روکا ہے۔ اگر ریگولیٹری فریم ورک اس سرمایہ کاری کے حق میں تبدیل ہوتا ہے، تو یہ شہری ٹرانسپورٹ کے لیے ایک پائیدار ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ رکشہ مالکان یا کمرشل ڈرائیور ہیں، تو وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ای وی پالیسیوں کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ حکومت آنے والے مہینوں میں اس پیشکش کا جائزہ لے گی۔ کسی بھی الیکٹرک کٹ یا گاڑی میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے یقینی بنائیں کہ وہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) سے تصدیق شدہ ہو تاکہ ناقص بیٹریوں سے ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
چینی کمپنی اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان کسی بھی مفاہمت کی یادداشت (MoU) یا تجارتی معاہدے پر دستخط ہونے کا انتظار کریں۔ اس کا اگلا مرحلہ منتخب شہروں میں پائلٹ ٹیسٹنگ ہو سکتا ہے تاکہ پاکستان کی شدید گرمی میں بیٹری کی کارکردگی کو جانچا جا سکے۔ چونکہ ملک اپنے تیل کے درآمدی بل کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے ایسی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کا امکان 2026 کے بقیہ حصے میں بڑھتا رہے گا۔
