لہور میں ایک چینی نوجوان کو کیڑوں کی آواز سننے کا مہنگا سودا پڑا ہے۔ 10 اگست 2026 کو واقع ہونے والے اس واقعے میں 28 سالہ لی وی نامی نوجوان کو چار گھنٹے تک مسلسل کیڑوں کی بھنبھناہٹ سننے پر مستقل سماعت کا نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس واقعے کو شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی شور آلودگی کے خطرات کے طور پر دیکھا ہے۔
واقعہ کے مطابق لی وی بیجنگ سے تعلق رکھنے والے ایک چینی نوجوان ہیں جو اپنے خاندان کے ساتھ جھنگir ٹاؤن، لہور میں ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ رشتہ داروں کے مطابق لی وی ایک کھلی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا جہاں کچھ بھنبھناتے ہوئے کیڑوں نے اپنا چھتہ بنا رکھا تھا۔ جب کیڑے پریشان ہوئے تو ان کی بھنبھناہٹ کی آواز مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہی۔ لی وی نے اپنے کانوں کو ڈھانپنے یا وہاں سے ہٹنے کی کوشش نہیں کی، یہ سمجھتے ہوئے کہ شور جلد ہی ختم ہو جائے گا۔
- مقامی مقام: جھنگir ٹاؤن، لہور
- تاریخ: 10 اگست 2026 (واقعہ پیش آیا), 12 اگست 2026 کو رپورٹ ہوا
- نمائش کی مدت: تقریباً 4 گھنٹے
- کیڑے کی قسم: بھنبھناتے ہوئے بھنبھناتے ہوئے (نوع کی تصدیق نہیں ہوئی)
- متاثرہ شخص کی قومیت: چینی
- رپورٹ شدہ نتیجہ: بائیں کان میں مستقل سماعت کا نقصان
لہور کے جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ لی وی کو سینسرنیورل سماعت کا نقصان پہنچا ہے جو اکثر ناقابل واپسی ہوتا ہے۔ ہسپتال کی ENT اسپیشلسٹ ڈاکٹر عائشہ خان نے کہا، "یہ بھنبھناہٹ چند منٹوں میں ہی نقصان پہنچا سکتی تھی، لیکن چار گھنٹے تک مسلسل نمائش نے شدید اور دائمی نقصان کو یقینی بنا دیا۔" انہوں نے مزید کہا کہ 85 ڈیسیبل (dB) سے زیادہ شور مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور ایک بھنبھناتے ہوئے کیڑے کی آواز 100 ڈیسیبل تک پہنچ سکتی ہے جب وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
واقعے کے دوران کیا ہوا؟
لی وی کے رشتہ داروں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ خاندان کا اجتماع ایک رہائشی عمارت کی زمین منزل پر ہو رہا تھا۔ کھڑکی، جہاں لی وی بیٹھا تھا، کھلی تھی تاکہ تازہ ہوا آ سکے۔ تقریباً دوپہر ڈھائی بجے، کچھ بھنبھناتے ہوئے کیڑے کمرے میں داخل ہوئے اور بھنبھناہٹ شروع کر دی۔ لی وی نے کھڑکی بند کرنے یا وہاں سے ہٹنے کی بجائے وہیں ٹھہرے رہنے کا فیصلہ کیا، ممکنہ طور پر کیڑوں کے خطرے سے ناواقفیت کی وجہ سے۔
"انہوں نے سوچا کہ شور اپنے آپ ہی رک جائے گا،" ایک خاندان کے رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا۔ "کسی کو بھی اس بات کا احساس نہیں تھا کہ یہ کتنا خطرناک ہے جب تک کہ اسی شام کو انہوں نے اپنے کان میں گھنٹی بجنے کی شکایت شروع نہیں کر دی۔"
اگلے دن صبح تک لی وی نے جب طبی مدد لی تو نقصان پہلے ہی ہو چکا تھا۔ آڈیالوجی ٹیسٹوں سے بائیں کان میں شدید سماعت کا نقصان سامنے آیا، جس میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مزید شور سے دور رہنے اور سماعت کے آلے پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کی قیمت 50,000 سے 200,000 روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔
بھنبھناتے ہوئے کیڑوں کی آواز کیوں خطرناک ہے؟
بھنبھناتے ہوئے کیڑے اور مکھیاں جب پریشان ہوتی ہیں تو ان کی بھنبھناہٹ کی آواز 100 ڈیسیبل سے زیادہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ کیڑے سائنسدانوں کے مطابق ہے۔ موازنہ کے طور پر، ایک چینساو 110 ڈیسیبل پر چلتا ہے اور اس طرح کی سطح کے مسلسل نمائش سے کئی منٹوں میں ہی مستقل سماعت کا نقصان ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس خطرے کو کم سمجھتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ شور عارضی یا بے ضرر ہوتا ہے۔
لہور کے ماحولیاتی صحت کے ماہر ڈاکٹر عمران ملک نے کہا، "لوگ اکثر ایک کیڑے کی آواز کو پورے جھنڈ سے الجھاتے ہیں۔ ایک بھنبھناتا ہوا کیڑا تقریباً 70-80 ڈیسیبل پر بھنبھناتا ہے، لیکن جب ایک جھنڈ پریشان ہوتا ہے تو مل کر آواز 100-120 ڈیسیبل تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ کسی راک کنسرٹ یا جیٹ انجن کی سطح کا شور ہے۔"
پاکستان کے شہروں میں شور آلودگی
لہور، کراچی اور اسلام آباد دنیا کے سب سے شور آلود شہروں میں شامل ہیں جہاں تجارتی اور رہائشی علاقوں میں شور کی سطح اکثر 90 ڈیسیبل سے تجاوز کر جاتی ہے۔ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) نے دن کے وقت رہائشی علاقوں کے لیے 55 ڈیسیبل اور رات کے وقت 45 ڈیسیبل کی قانونی حد مقرر کی ہے، لیکن نفاذ کمزور ہے۔
- لہور میں اوسط شور کی سطح: 85-95 ڈیسیبل (دن کے وقت)
- کراچی میں اوسط شور کی سطح: 80-90 ڈیسیبل
- اسلام آباد میں اوسط شور کی سطح: 75-85 ڈیسیبل
- قانونی حد (پاک-ای پی اے): 55 ڈیسیبل (دن), 45 ڈیسیبل (رات)
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل شور کے نمائش سے بلڈ پریشر میں اضافہ، نیند کی خرابی اور ذہنی کمزوری کے ساتھ ساتھ سماعت کے نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے باوجود، شور آلودگی پالیسی سازوں کے لیے کم ترجیح بنی ہوئی ہے۔
اگر آپ کو کیڑوں کے جھنڈ کا سامنا ہو تو کیا کریں؟
ڈاکٹروں اور کیڑے سائنسدانوں نے کیڑوں کے جھنڈ کا سامنا کرنے پر درج ذیل اقدامات کی سفارش کی ہے:
- کیڑوں کو مارنے یا پریشان نہ کریں۔ اچانک حرکتوں سے حملہ شروع ہو سکتا ہے۔
- پر سکون رہیں اور آہستہ آہستہ ہٹ جائیں۔ بھاگنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ ان کو پیچھا کرنے پر اکساتا ہے۔
- اگر فوراً فرار نہ ہو سکیں تو اپنے کان ڈھانپ لیں۔ اگرچہ شور کو بے ضرر سمجھا جا سکتا ہے، لیکن مسلسل نمائش سے نقصان ہو سکتا ہے۔
- کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کر دیں تاکہ کیڑے اندر نہ آ سکیں۔
- رات کے وقت اگر کیڑے روشنی کے قریب ہوں تو ٹارچ کا استعمال کریں کیونکہ کیڑے روشنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
- اگر جھنڈ بڑا یا جارحانہ ہو تو پیشہ ور کیڑے مار سروس کو بلائیں۔
لی وی کے لیے اب کیا ہو گا؟
لی وی فی الحال علاج کے آپشن تلاش کرتے ہوئے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ لہور میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ان کے خاندان نے اس واقعے کو "بدقسمت حادثہ" قرار دیتے ہوئے لہور پولیس میں رپورٹ درج کرائی ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ ان کا سماعت کا نقصان مستقل ہے۔
"ہم قانونی آپشنز پر غور کر رہے ہیں،" خاندان کے ایک ترجمان نے کہا۔ "ہم پاکستان میں شور آلودگی اور کیڑوں کے جھنڈ کے خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانا چاہتے ہیں۔"
پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن ماحولیاتی کارکن شور آلودگی کے قوانین کے نفاذ اور کیڑوں کے جھنڈ کے خطرات پر عوامی آگاہی مہموں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
شور آلودگی سے خود کو کیسے بچائیں
اگر آپ کسی شور آلود شہری علاقے میں رہتے ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر پر غور کریں:
- اونچی آواز والے ماحول میں کانوں کے پلگ یا شور کم کرنے والے ہیڈ فونز استعمال کریں۔
- اگر آپ کسی مصروف سڑک یا تعمیراتی جگہ کے قریب رہتے ہیں تو آواز کو روکنے والے کھڑکیاں لگائیں۔
- بلند شور، بشمول ٹریفک، تعمیرات اور کیڑوں کے جھنڈ، کے مسلسل نمائش سے پرہیز کریں۔
- شور آلودگی کی زیادتیوں کی رپورٹ پاک-ای پی اے یا مقامی حکام سے کریں۔
- اپنے خاندان اور کمیونٹی کو شور آلودگی کے خطرات کے بارے میں آگاہ کریں۔
مدد کہاں سے حاصل کریں
اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو بلند شور کا سامنا کرنا پڑا ہے اور سماعت کی پریشانی کا سامنا ہے تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔ لہور کے جناح ہسپتال اور مایو ہسپتال کے ENT ڈپارٹمنٹ مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ شور آلودگی کی شکایات کے لیے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) کے لاہور آفس سے رابطہ کریں:
- پاک-ای پی اے لاہور آفس: 042-99203671
- ایمرجنسی ہیلپ لائن: 1166 (پاک-ای پی اے قومی ہیلپ لائن)
اہم نکات
- ایک چینی نوجوان کو لہور میں کیڑوں کی بھنبھناہٹ سننے پر مستقل سماعت کا نقصان پہنچا ہے۔
- کیڑوں کے جھنڈ 100-120 ڈیسیبل کی آواز پیدا کر سکتے ہیں جو چند منٹوں میں ہی نا قابل واپسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- لہور، کراچی اور اسلام آباد میں خطرناک حد تک بلند شور کی سطح ریکارڈ کی گئی ہے جو قانونی حدود سے تجاوز کر جاتی ہے۔
- روک تھام ہی بہتر ہے—کیڑوں کے جھنڈ کو پریشان نہ کریں اور شور آلود ماحول میں اپنے کانوں کی حفاظت کریں۔
- قانونی کارروائی اور آگاہی پاکستان میں شور آلودگی اور کیڑوں سے متعلق خطرات کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے۔
کیا آپ اپنے شہر میں شور آلودگی کے تجربے کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟ تبصرے میں اپنے تجربات شیئر کریں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کسی شور آلود علاقے میں رہتے ہیں یا کیڑوں کے جھنڈ کا سامنا کرتے ہیں تو آج ہی یہ اقدامات کریں:
- اپنے گھر میں ممکنہ کیڑوں کے چھتوں کی جانچ کریں اور داخلے کے مقامات کو بند کریں۔
- اگر آپ شور آلود ماحول میں کام کرتے ہیں یا رہتے ہیں تو کانوں کی حفاظت کے آلات میں سرمایہ کاری کریں۔
- شور آلودگی کی زیادتیوں کی رپورٹ پاک-ای پی اے یا مقامی حکام سے کریں۔
- اپنی کمیونٹی میں شور آلودگی کے خطرات کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔
اگلے مرحلے پر نظر رکھیں
- کیا پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) شور آلودگی کے نفاذ پر کارروائی کرے گی؟
- کیا لی وی کا معاملہ شور آلودگی اور کیڑوں کے جھنڈ کے خطرات پر عوامی آگاہی مہموں کو جنم دے گا؟
- شہروں جیسے لہور میں شہری منصوبہ بندی شور آلودگی کے مسائل کو کیسے حل کرے گی؟
