کرسٹوفر نولن کی جنگی فلم دی اوڈیسی دنیا بھر کے باکس آفس پر مسلسل کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، اور ریلیز کے ایک ماہ بعد بھی اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اسپیڈ مین: برانڈ نیو ڈے جیسی بڑی فلموں کے مقابلے کے باوجود، برطانوی ہدایت کار کی یہ فلم شائقین کی پہلی پسند بنی ہوئی ہے۔
'دی اوڈیسی' باکس آفس پر کیوں کامیاب ہے؟
ویراائٹی (Variety) کی رپورٹس کے مطابق، میٹ ڈیمن کی مرکزی اداکاری والی یہ فلم اپنی طویل سنیما لائف کی وجہ سے تاریخ رقم کر رہی ہے۔ عام طور پر بڑی فلمیں تین ہفتوں کے بعد اپنی رفتار کھو دیتی ہیں، لیکن اس فلم نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے بڑے سینما گھروں میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہوئی ہے۔
- ریلیز کی تاریخ: فلم کو ریلیز ہوئے ٹھیک ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔
- کارکردگی: آئی میکس (IMAX) اور معیاری اسکرینوں پر اب بھی بڑی تعداد میں شائقین موجود ہیں۔
- مقابلہ: اسپائیڈر مین کی نئی فلم کے باوجود اس کی مانگ میں کمی نہیں آئی۔
سنیما کے بدلتے رجحانات
دی اوڈیسی کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شائقین اب معیاری اور ڈائریکٹر پر مبنی فلموں کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے سینما گھروں میں یہ فلم اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ فلم کی تکنیکی مہارت اور بڑے کینوس پر پیشکش اسے عام فلموں سے ممتاز کرتی ہے۔
شائقین کے لیے مشورہ
اگر آپ اب تک یہ فلم نہیں دیکھ سکے، تو اپنے قریبی سینما گھر کی ویب سائٹ یا بکنگ ایپس جیسے 'بک می' (Bookme) یا 'سینی پیکس' (Cinepax) پر شو ٹائمز چیک کریں۔ چونکہ فلم کو ریلیز ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے، اس لیے اب اسکریننگ کی تعداد کم ہو سکتی ہے، لہذا ویک اینڈ پر جانے کے لیے پہلے سے ٹکٹ بک کروانا بہتر ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جیسے جیسے دی اوڈیسی اپنے سنیما کے سفر کو مکمل کرے گی، فلمی دنیا کی نظریں اب نئی آنے والی فلموں پر ہیں۔ توقع ہے کہ ریلیز کے تین ماہ بعد یہ فلم ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہوگی۔ تب تک، اگر آپ ایک بہترین سنیما تجربہ چاہتے ہیں تو اسے بڑے پردے پر دیکھنا ہی بہترین انتخاب ہے۔
