چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں خواتین فیسیلی ٹেশন سینٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ خواتین سائلین کو محفوظ، باوقار اور معاون ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یہ اقدام ملکی عدائتی نظام میں خواتین کو درپیش طویل عرصے کی مشکلات کا ازالہ کرتا ہے۔ خواتین سائلین، مدعی خواتین اور خواتین وکلاء اکثر ملک کے ضلعی اور ہائی کورٹس میں نامساعد ماحول، بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی الجھنوں کا شکار ہوتی ہیں۔ مخصوص جگہیں بنانے کا مقصد ان عملی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے جو کمزور شہریوں کو قانونی چارہ جوئی سے روکتی ہیں۔
نئے فیسیلی ٹেশন سینٹرز کیا سہولیات فراہم کریں گے
تجویز کردہ یہ مراکز محض انتظار گاہوں سے بڑھ کر ہوں گے۔ عدلیہ کے ابتدائی خاکہ جات کے مطابق، یہ جگہیں عدالتی نظام سے رابطہ کرنے والی خواتین کے لیے قانونی عمل کو آسان بنائیں گی۔
سائلین کو مقدمات درج کرانے، دستاویزات کی تصدیق اور عدالت میں پیشی کے حوالے سے براہ راست رہنمائی ملے گی۔ مزید برآں، اس ماحول کا مقصد رازداری اور جسمانی تحفظ فراہم کرنا ہے، جس سے بڑے شہروں اور چھوٹے اضلاع میں اکیلے عدالتی پیشی کے لیے سفر کرنے والی خواتین کے خدشات دور ہوں گے۔
بکھرے ہوئے عدالتی تجربے کو درست کرنا
دہائیوں سے پاکستان کا عدالتی ڈھانچہ جدید عوامی خدمات کے بجائے نوآبادیاتی دور کے انتظامی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ عام شہری، بالخصوص پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین، لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے بڑے عدالتی احاطوں میں اکثر پریشان نظر آتی ہیں۔
قانونی امداد فراہم کرنے والے ادارے بار بار اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ڈے کیئر، الگ بیٹھنے کی جگہ اور خواتین انتظامی عملے جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان بہت سی خواتین کو خاندانی تنازعات، جائیداد کے دعوے یا فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے سے روکتا ہے۔ سب سے بڑے عہدے سے اس انتظامی اصلاحات کو آگے بڑھانا عدالتوں کو حقیقی معنوں میں عوامی جگہیں بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس وقت کسی مقدمے کا حصہ ہے اور انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، تو اپنی متعلقہ صوبائی ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ نفاذ کی ٹائم لائنز اور پائلٹ مقامات آنے والے مہینوں میں ضلعی بار ایسوسی ایشنز کے ذریعے سامنے آئیں گے۔ اپنے مقامی عدالتی کمپلیکس میں ان سہولیات کے فعال ہونے کے بارے میں اپ ڈیٹس کے لیے مقامی قانونی امداد کے کلینکس سے رابطہ کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
سپریم کورٹ کی طرف سے انمراکز کے لیے نفاذ کے بجٹ، عملے کی ضروریات اور تکمیل کی آخری تاریخوں کی باضابطہ نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں۔ اس اقدام کا اصل امتحان اس کے نفاذ پر ہوگا کہ آیا صوبائی انتظامیہ مناسب فنڈز مختص کرتی ہے یا نہیں۔
