پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے جمعہ کے روز صوبے کے 43 شہروں میں مربوط سیف سٹی نیٹ ورک کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے، جو صوبے بھر میں ڈیجیٹل نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کا ایک بڑا قدم ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے دائرہ کار کو صرف ضلعی سطح تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے ہر تحصیل اور یونین کونسل تک پھیلایا جائے گا۔

اس نئے نیٹ ورک کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں میں سیکیورٹی کے خلا کو پُر کرنا ہے۔ لاہور، راولپنڈی اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ڈیجیٹل نگرانی پہلے سے موجود تھی، لیکن پنجاب کے دیگر اضلاع فوری رسپانس اور مرکزی مانیٹرنگ کے نظام سے محروم تھے۔ اس اقدام سے صوبے کے تمام حصوں میں پولیسنگ کے یکساں معیارات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔

تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک توسیع

افتتاحی تقریب کا سب سے اہم پہلو اس نظام کو گراس روٹ سطح تک لے جانے کا عزم ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے نکال کر تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک لے جایا جائے۔ حکام کے مطابق اس توسیع کا عمل مرحلہ وار مکمل ہوگا جس میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے حساس اضلاع کو ترجیح دی جائے گی۔

عام شہری کے لیے اس کا مطلب ہنگامی حالات میں پولیس کے بروقت پہنچنے کی ضمانت، ٹریفک کی بہتر روانی اور سٹریٹ کرائمز میں کمی ہے۔ مقامی پولیس یونٹس کو محفوظ فائبر آپٹک نیٹ ورکس کے ذریعے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا جائے گا تاکہ کسی بھی واقعے کی بروقت مانیٹرنگ کی جا سکے۔

پینک بٹن اور شہری تحفظ میں اضافہ

نگرانی کے کیمروں کے علاوہ حکومت نے ان 43 شہروں کے اہم عوامی مقامات پر مزید 1,500 پینک بٹن نصب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ان ہنگامی ٹرمینلز کی مدد سے شہری سٹریٹ کرائم، ہراسانی یا طبی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر پولیس ڈسپیچرز سے رابطہ کر سکیں گے۔

  • عوامی مقامات پر 1,500 سے زائد نئے پینک بٹن نصب کیے جائیں گے
  • ایمرجنسی بوتھ اور مقامی پولیس کنٹرول روم کے درمیان براہ راست آڈیو وژویل رابطہ
  • پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی ٹیموں کی جانب سے مسلسل نگرانی

یہ اقدام محض کیمروں سے نگرانی کے طریقہ کار میں ایک اہم بہتری ہے کیونکہ یہ شہریوں کو براہ راست مدد طلب کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

شہریوں کے لیے اس کے کیا معنی ہیں

اگر آپ ان 43 شہروں میں سے کسی میں رہائش پذیر ہیں یا سفر کرتے ہیں، تو آنے والے مہینوں میں اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر نئے کیمروں کی تنصیب نظر آئے گی۔ حکومت کا اصرار ہے کہ یہ ڈیٹا صرف قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اپنے علاقے میں پینک بٹن کی تنصیب اور تحصیل کی سطح پر اس منصوبے کے آغاز کی تاریخوں کے لیے ضلعی انتظامیہ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ صوبائی بجٹ میں اس منصوبے کے لیے مختص فنڈز اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ نظام کتنی تیزی سے زمین پر نافذ ہوتا ہے۔