وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شیخوپورہ میں نستلے پاکستان کے بائیوماس اسٹیم پلانٹ کا افتتاح کر دیا ہے، جو صوبے میں صنعتی سطح پر ماحول دوست توانائی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد پنجاب حکومت کے اشتراک سے ہونے والی ایک باضابطہ تقریب کے دوران رکھا گیا۔ اس کارخانے کا بنیادی مقصد روایتی ایندھن کی جگہ زرعی فضلے اور باقیات کا استعمال کرنا ہے تاکہ فیکٹری کے تمام امور میں کاربن کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔
صنعتی توانائی کے ذرائع میں تبدیلی
حال ہی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ مقامی بائیوماس، جیسے کہ فصلوں کی باقیات اور چھਿਲکوں کو صنعتیپیداوار کے لیے بھاپ بنانے کی غرض سے استعمال کرتا ہے۔ پنجاب کے صنعتی ادارے روایتی طور پر اپنے بوائلرز چلانے کے لیے فرنس آئل، گیس یا درآمد شدہ کوئلے پر انحصار کرتے ہیں۔ فضلہ جلانے کے ماحول دوست ذرائع کی طرف منتقلی سے بڑی کارپوریشنز گیس کے قومی ذخائر پر اپنا بوجھ کم کر سکتی ہیں اور دیہی علاقوں میں فصلوں کی بچ جانے والی باقیات سے بھی نجات ملتی ہے جنہیں جلانے سے اکثر اسموگ پیدا ہوتی ہے۔
اس صنعتی تبدیلی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- مقامی سطح پر حاصل کردہ زرعی ضمنی مصنوعات کا استعمال
- فیکٹری کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی
- صوبائی ماحولیاتی تبدیلی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگی
- بائیوماس فراہم کرنے والی دیہی سپلائی چینز کے لیے براہ راست تعاون
پنجاب پر ماحولیاتی اثرات
صنعتوں سے نکلنے والا دھواں اور موسمی طور پر فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا پنجاب میں فضائی آلودگی کے شدید بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ شیخوپورہ کا یہ اسٹیم پلانٹ زرعی فضلے کو جلانے کے خطرے کے بجائے اسے ایک مفید اثاثے میں بدلنے کا ایک بہترین تجارتی ماڈل فراہم کرتا ہے۔ ماحولیاتی نگران اداروں نے سردیوں کے مہینوں میں اسموگ کی سطح پر قابو پانے کے لیے بڑی کارپوریشنوں پر زور دیا ہے کہ وہ صفائی کے بہتر معیارات اپنائیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ وسطی پنجاب میں کوئی کاروباری یا زرعی سرگرمی چلا رہے ہیں، تو اس بات کا جائزہ لیں کہ بڑی صنعتی کمپنیاں کیسے ماحول دوست فضلہ حاصل کر رہی ہیں۔ کسان اور سپلائرز ایسی مینوفیکچرنگ یونٹس کے ساتھ تجارتی شراکت داری تلاش کر سکتے ہیں جنہیں بائیوماس کی مسلسل فراہمی درکار ہوتی ہے۔ عام شہریوں کے لیے، کارپوریٹ اداروں کی ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنا مقامی ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اس بات پر نظر رکھیں کہ آیا صوبائی انتظامیہ فیصل آباد اور لاہور جیسے دیگر صنعتی شہروں تک بھی ایسے پبلک پرائیویٹ گرین پارٹنرشپس کو وسعت دیتی ہے۔ ہم اس امر کا بھی جائزہ لیتے رہیں گے کہ آیا نستلے اور دیگر ملٹی نیشنل ادارے پاکستانی کارخانوں میں روایتی ایندھن والے بوائلرز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اپنے طے شدہ شیڈول پر پورا اترتے ہیں۔
