وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی حکام کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ suthra punjab workers salary (ستھرا پنجاب ملازمین کی تنخواہ) ہر ماہ کی 5 تاریخ سے پہلے ادا کی جائے تاکہ صفائی کے عملے کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ جمعرات کے روز لاہور میں منعقدہ ستھرا پنجاب پروگرام کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اس فیصلے کا مقصد ان روایتی تاخیروں کو ختم کرنا ہے جو بلدیاتی اور ویسٹ مینجمنٹ کے محکموں میں ملازمین کو درپیش رہتی ہیں۔ ماہانہ ادائیگی کے لیے ایک سخت ڈیڈ لائن مقرر کر کے صوبائی حکومت ان زمینی ملازمین کو مالی تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے جو صوبے بھر کی سڑکوں اور گلیوں کو صاف رکھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت کے اہم نکات
- آخری تاریخ: تمام تنخواہیں ہر ماہ کی 5 تاریخ سے پہلے لازمی ادا کرنی ہوں گی۔
- متاثرہ گروپ: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت کام کرنے والے سینیٹیشن ورکرز، سپروائزرز اور فیلڈ سٹاف۔
- صدارت: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں اجلاس کی صدارت کی۔
- نفاذ: بلدیاتی محکموں اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو فوری طور پر بلنگ سائیکل درست کرنے کا حکم۔
ستھرا پنجاب ملازمین کی تنخواہوں کی ڈیڈ لائن
پنجاب میں بلدیاتی ملازمین برسوں سے تنخواہوں کی غیر یقینی اور تاخیر سے ادائیگی کے نظام کا شکار رہے ہیں۔ نئی ہدایت کے تحت حکومت پنجاب نے suthra punjab workers salary کی بروقت ادائیگی کو بلدیاتی افسران کی کارکردگی کی جانچ کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے زور دیا کہ جو لوگ ہمارے شہروں کو صاف رکھتے ہیں وہ اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں بغیر کسی احتجاج یا انتظار کے ان کی اجرت ملے۔
لاہور میں ہونے والے اجلاس کے دوران لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ (LG&CD) ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے ستھرا پنجاب پروگرام کے موجودہ ڈھانچے پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تنخواہوں میں تاخیر کے لیے کسی بھی قسم کی دفتری سستی یا سرخ فیتے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھیں تاکہ ہر ماہ کے آغاز سے پہلے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
ویسٹ مینجمنٹ اور ٹھیکیداروں کا احتساب
ستھرا پنجاب پروگرام کا انحصار سرکاری ملازمین اور نجی ٹھیکیداروں کے اشتراک پر ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں ہزاروں صفائی ملازمین کے امور سنبھالتی ہیں۔ نجی ٹھیکیداروں پر اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اپنے مالی معاملات سنبھالنے کے لیے غریب ملازمین کی تنخواہیں روک لیتے ہیں۔
اس نئے حکم نامے کے بعد صوبائی انتظامیہ نے احتساب کا بوجھ ان ٹھیکیداروں اور منیجنگ ڈائریکٹرز پر ڈال دیا ہے۔ کوئی بھی ٹھیکیدار جو 5 تاریخ تک تنخواہیں تقسیم کرنے میں ناکام رہا، اس کا ٹھیکہ منسوخ کیا جا سکتا ہے اور اسے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت ایک ایسا خودکار نظام لانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت ملازمین کی تنخواہوں کا فنڈ محفوظ رہے گا اور اسے کسی دوسرے کام میں استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
ملازمین کے لیے ضروری ہدایات
اگر آپ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت سینیٹیشن ورکر، سپروائزر یا کنٹریکٹ ملازم ہیں، تو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- بینک اکاؤنٹ کی تصدیق: اپنے بینک اکاؤنٹ یا موبائل ویلٹ (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کی معلومات اپنے سپروائزر کے پاس درست درج کروائیں تاکہ تکنیکی تاخیر نہ ہو۔
- تاخیر کی شکایت درج کریں: اگر آپ کی تنخواہ ماہ کی 5 تاریخ تک منتقل نہیں ہوتی، تو فوری طور پر یونین نمائندے سے رابطہ کریں یا وزیراعلیٰ شکایت سیل پر رجوع کریں۔
- حاضری کا ریکارڈ رکھیں: بائیومیٹرک یا مینوئل حاضری کے رجسٹر میں اپنی روزانہ کی حاضری کو یقینی بنائیں، کیونکہ ٹھیکیدار اکثر حاضری کے مسائل کا بہانہ بنا کر تنخواہ روکتے ہیں۔
- ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سے رابطہ: اپنے شہر کی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (جیسے لاہور میں LWMC) کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے رابطے میں رہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ بلنگ شیٹس وقت پر جمع ہو گئی ہیں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
اس فیصلے کا اصل امتحان پنجاب کے چھوٹے اضلاع اور دیہی تحصیلوں میں اس کا نفاذ ہوگا۔ جہاں لاہور اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے پاس تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا نظام موجود ہے، وہیں چھوٹی بلدیاتی کمیٹیوں کو ڈیجیٹلائزیشن کے مسائل کا سامنا ہے۔
اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا محکمہ بلدیات تمام کونسلوں میں بائیومیٹرک حاضری اور ڈیجیٹل پے رول سسٹم کامیابی سے لاگو کر پاتا ہے یا نہیں۔ آنے والے مہینے کا پہلا ہفتہ اس ڈیڈ لائن کا پہلا بڑا امتحان ہوگا، جس پر صوبے بھر کے ملازمین کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
