وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں 'ستھرا پنجاب' پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی کے سخت انتظامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی رہائشی علاقوں میں بھی صفائی کے وہی معیارات لاگو کرنا ہے جو سرکاری سطح پر اپنائے جا رہے ہیں۔

نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی مہم کا نفاذ

حکومتی احکامات کے مطابق اب نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں ویسٹ مینجمنٹ اور نکاسی آب کے نظام کی نگرانی مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔ ماضی میں یہ سوسائٹیز اپنے انتظامی امور خود چلاتی تھیں، جس کی وجہ سے کچرا اٹھانے اور صفائی کے معاملات میں عدم توازن پایا جاتا تھا۔

  • کچرے کو گھروں کی سطح پر ہی الگ کرنا لازمی قرار۔
  • سوسائٹیز کی حدود کے باہر غیر قانونی ڈمپنگ سائٹس کا فوری خاتمہ۔
  • نکاسی آب کے نظام کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال۔
  • صفائی کے معیارات پر پورا نہ اترنے والے ڈویلپرز کے خلاف سخت جرمانے۔

رہائشیوں کے لیے کیا تبدیل ہوگا؟

اگر آپ کسی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتے ہیں تو آپ کو جلد ہی صفائی کے نظام میں بہتری نظر آئے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ستھرا پنجاب مہم صرف سرکاری اراضی تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بلدیاتی حکام اب نجی سوسائٹیز کے اندرونی صفائی کے نظام کی نگرانی کرنے کے مجاز ہوں گے، جس سے کچرا اٹھانے کے عمل میں بہتری کی توقع ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

رہائشیوں اور سوسائٹی کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نظام کا جائزہ لیں۔ اگر آپ کی سوسائٹی صفائی کے بنیادی اصولوں پر عمل نہیں کر رہی، تو اب آپ متعلقہ بلدیاتی دفتر یا ستھرا پنجاب ہیلپ لائن پر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ حکومت جلد ہی اس حوالے سے ایک تفصیلی عمل درآمد شیڈول جاری کرے گی۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹسز پر نظر رکھیں۔ امید ہے کہ حکومت سوسائٹیز کو کچرے کے ڈھیر ہٹانے کے لیے ایک حتمی ڈیڈ لائن دے گی، جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والی انتظامیہ کے خلاف بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔