وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز نے حکومتی اتحادیوں کے درمیان شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے بجائے حکومت کی تمام تر توجہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے مکمل نفاذ پر ہونی چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان اور گورننس کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
نئے صوبوں کی تشکیل پر اتحادیوں کے تحفظات
اتحادی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران، مہنگائی اور توانائی کے شعبے کے قرضوں میں گھرا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب عوام بنیادی ضروریات زندگی کے لیے پریشان ہیں، نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بحث وقت کا ضیاع اور ایک غیر ضروری سیاسی انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔
اتحادی جماعتیں حکومت کو مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ درج ذیل معاملات پر توجہ مرکوز کرے:
- نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا۔
- موجودہ صوبائی ڈھانچے میں انتظامی کارکردگی کو بڑھانا۔
- بجلی کے شعبے کے گردشی قرضوں میں کمی لانا۔
- ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کو بہتر بنا کر معیشت کو مستحکم کرنا۔
نیشنل ایکشن پلان بمقابلہ انتظامی اصلاحات
ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کی جانب سے یہ تجویز ایک ایسا سیاسی پنڈورا باکس کھول سکتی ہے جس سے ملک میں لسانی اور سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں صوبائی حدود کی تبدیلی کا مسئلہ ہمیشہ سے حساس رہا ہے اور اس کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتحادیوں کا خیال ہے کہ اس بحث میں الجھنے سے حکومت کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے گی۔
اس کے علاوہ، چھوٹے صوبوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے 18 ویں ترمیم کے تحت حاصل اختیارات اور مالی خود مختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک شہری کے طور پر، قومی اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی اور سیاسی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں۔ اگر آپ سول سوسائٹی یا مقامی حکومتوں سے وابستہ ہیں، تو اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا حکومت نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی اقدامات کو ترجیح دیتی ہے یا انتظامی اصلاحات کے ایجنڈے پر اصرار کرتی ہے۔ اس معاملے پر عوامی بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاسوں پر نظر رکھیں۔ اگر اتحادی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر اصرار جاری رکھتی ہیں، تو وزیر داخلہ کو اپنی تجویز پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے جاری ہونے والے بیانات سے یہ واضح ہو جائے گا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کے مشورے پر عمل کر رہی ہے یا نہیں۔
