آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ملک بھر میں ممکنہ طوفانی بارشوں سے نمٹنے کے لیے ndma monsoon preparedness کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نبرد آزما ہوا جا سکے۔ اعلیٰ سطحی بریفنگ کا بنیادی مقصد قبل از وقت وارننگ کے نظام کو بہتر بنانا، حساس دریاؤں کے کناروں کو محفوظ بنانا اور شہری و دیہی علاقوں میں ہنگامی امدادی مشینری کی بروقت تعیناتی کو یقینی بنانا تھا۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں بریفنگ

این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے آرمی چیف کو ادارے کی تکنیکی استعداد اور این ای او سی کے کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ یہ سینٹر موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے، آفات سے نمٹنے کے پروٹوکولز کو منظم کرنے اور صوبائی محکموں کے ساتھ رابطہ کاری کا مرکزی مرکز ہے۔ حکام نے موسمی تغیرات، بادلوں کے پھٹنے اور فلیش فلڈ کے خطرات کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جدید ڈیجیٹل سسٹمز کا مظاہرہ کیا۔

  • تمام صوبوں میں موسم کی تازہ ترین معلومات کا تبادلہ
  • خطرناک زونز میں بھاری مشینری کی فوری تعیناتی کی حکمت عملی
  • ضلعی سطح کے انتظامی اداروں کے ساتھ رابطے کو مزید موثر بنانا

سول اور عسکری اداروں میں تعاون

پاکستان کو ہر سال شدید موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کی جانچ اور فوری انخلا کے منصوبے انسانی جانوں اور معیشت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ جنرل منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی ہنگامی سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کی انجینئرنگ یونٹس، طبی ٹیمیں اور ایوی ایشن کے اثاثے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بروقت اقدامات کے بغیر نقصانات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ نش نشیب یا برساتی نالوں کے قریب رہائش پذیر ہیں، تو غیر مصدقہ افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے محکمہ موسمیات کی باضابطہ رپورٹس پر نظر رکھیں۔ اپنے گھر کے اردگرد نکاسی آب کے راستوں کو صاف رکھیں، اہم دستاویزات کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور ہنگامی حالات کے لیے ضروری ادویات، پینے کا پانی اور خشک راشن کا بندوبست کریں۔ اپنے موبائل فون پر ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر جیسے کہ 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے رابطے محفوظ رکھیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آنے والے دنوں میں قبل از وقت مون سون بارشوں کی پیشگوئی، ریسکیو بوٹس کی صوبائی سطح پر تقسیم اور بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی اور پشاور میں قدرتی راستوں میں قائم تجاوزات کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے آنے والے ہفتوں میں اضلاع کی نئی رسک رپورٹس جاری کریں گے۔