کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے بدھ 14 اکتوبر 2026 کو شہر بھر میں مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ریشنلائزڈ بس روٹ پالیسی نافذ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بس روٹس کے اجراء کی موجودہ پالیسی کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے تاکہ یہ شہریوں کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکے۔

کراچی کے طول و عرض میں کروڑوں شہری روزانہ کی بنیاد پر طویل سفر اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد شہر کے پسماندہ اور نئے رہائشی علاقوں کو مرکزی تجارتی مراکز سے براہ راست جوڑنا ہے۔ کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اب روٹ پرمٹس کا اجراء اندھا دھند نہیں ہوگا بلکہ آبادی کے تناسب اور مسافروں کے رش کو مدنظر رکھ کر نئے روٹس فائنل کیے جائیں گے۔

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری

شہر کے کئی علاقوں مثلاً سرجانی ٹاؤن، گلستان جوہر اور کورنگی کے مکین طویل عرصے سے مناسب پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی شکایات کرتے آئے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے تحت ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ صرف منافع بخش روٹس تک محدود رہنے کے بجائے ان علاقوں میں بھی بسیں چلائیں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت ہے۔

  • براہ راست کوریڈورز: طویل اور غیر ضروری چکروں والے روٹس کا خاتمہ۔
  • نظر انداز شدہ علاقے: نئی ہاؤسنگ سکیموں اور دور دراز کے علاقوں تک بس سروس کی فراہمی۔
  • ڈیٹا کی بنیاد پر پرمٹس: آبادی کے اعداد و شمار کی روشنی میں نئے ٹرانسپورٹ پرمٹ جاری کرنا۔

شہریوں کے لیے اگلا قدم

اگر آپ روزانہ کی آمدورفت کے لیے پبلک بسوں پر انحصار کرتے ہیں تو آنے والے ہفتوں میں ضلعی انتظامیہ کے اعلان کردہ نئے روٹس پر نظر رکھیں۔ حکومت سندھ کے آفیشل پورٹل sindh.gov.pk پر جا کر آپ ٹرانسپورٹ سے متعلقہ تازہ ترین نوٹیفیکیشنز اور اپ ڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ اس حوالے سے عوامی شکایات سننے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

کراچی میں کسی بھی ٹرانسپورٹ اصلاحات کا نفاذ ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرانسپورٹ یونینز اور بس مالکان اس نئی پالیسی پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں۔ آنے والے ایک ماہ کے دوران نئے روٹس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن متوقع ہے۔