پریاگ راج میں راہل گاندھی کے پروگرام کی بکنگ منسوخ ہونے کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی پر حزب اختلاف کے قائد کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومتی دباؤ کے تحت طلبہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے انتظامات کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے تاکہ اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکا جا سکے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جلسہ گاہ کی اجازت کو اچانک واپس لے لیا گیا۔
گراؤنڈ کی بکنگ منسوخ کرنے کی وجوہات
یہ سارا تنازعہ ’چھاتروں کی گونج‘ نامی ایک خصوصی طلبہ پروگرام سے جڑا ہوا ہے جو 8 اگست 2026 کو پریاگ راج میں منعقد ہونا تھا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے اس تقریب میں طلبہ سے براہ راست بات چیت کرنا تھی، لیکن کے پی کالج گراؤنڈ کی انتظامیہ نے آخری وقت پر گراؤنڈ کی بکنگ منسوخ کر دی۔
کالج ٹرسٹ اور مقامی انتظامیہ نے اس فیصلے کے دفاع میں عدالتی احکامات، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے میدان کو نقصان پہنچنے کا عذر پیش کیا۔ تاہم، حزب اختلاف نے ان تمام توجیہات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
کانگریس کا سخت ردعمل اور الزامات
کانگریس کے رہنما اجے رائے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشینری ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ راہل گاندھی کا پریاگ راج کا دورہ ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکمران جماعت راہل گاندھی سے سخت خائف ہے اور نوجوانوں تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- یہ پروگرام طے شدہ تاریخ 8 اگست 2026 کو ہونا تھا۔
- اس کے لیے پریاگ راج کے کے پی کالج گراؤنڈ کا انتخاب کیا گیا تھا۔
- انتظامی عذروں میں بارش اور تعلیمی حرج کا حوالہ دیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اتر پردیش میں نوجوانوں کی سیاست انتہائی حساس سمجھی جاتی ہے اور اس طرح کی پابندیوں سے حکومت مخالف جذبات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
کانگریس قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ پریاگ راج میں متبادل مقام کا بندوبست کریں گے تاکہ 8 اگست 2026 کو طلبہ کے ساتھ طے شدہ مکالمہ ہر صورت منعقد ہو سکے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا پارٹی کو کسی دوسری جگہ کی اجازت ملتی ہے یا یہ معاملہ مزید طویل قانونی اور سیاسی کھینچ تان کی طرف جاتا ہے۔
