ملک بھر میں گڈز کنٹینرز کی نقل و حرکت بلا تعطل جاری رہے گی کیونکہ گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے حکام کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی طے شدہ ہڑتال باضابطہ طور پر ختم کر دی ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے دوران وفاقی نمائندوں نے ہیوی وہیکل آپریٹرز کے تحفظات کو دور کیا، جس کے بعد ٹرانسپورٹ باڈیز نے اپنے احتجاجی فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا۔

پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کا پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

اس مفاہمت کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کے آٹھ نکاتی مطالبات کو تسلیم کرنا بنیا۔ ان مراعات کے بعد کونسل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ان کی مجوزہ پہیہ جام ہڑتال منسوخ کر دی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ کے نمائندوں نے پہلے دھمکی دی تھی کہ وہ سڑکوں سے بھاری کنٹینرز ہٹا لیں گے، جس سے سپلائی چین مفلوج ہو جاتی، کراچی اور پورٹ قاسم پر پورٹ آپریشنز متاثر ہوتے اور ملک بھر کی صنعتیں رک جاتی ہیں۔ مذاکرات کے مثبت نتائج آنے کے بعد اب سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا اوگرا سے معاہدہ

ایک اور پیش رفت میں، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ان کے مطالبات اور شرائط کو تسلیم کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہری مراکز میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ایندھن کی ذخیرہ اندوزی یا گھبراہٹ میں خریداری کے خدشات بے بنیاد ہیں، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بغیر کسی रुकावट کے جاری ہے۔

حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ مطالبات

اگرچہ آٹھ مطالبات کے مالی اثرات کا جائزہ وزارت مواصلات اور متعلقہ محکمے لے رہے ہیں، لیکن وفاقی حکام کی جانب سے منظور کیے گئے اہم نکات میں یہ شامل ہیں:

  • ایکس لوڈ کے نفاذ کے جرمانوں اور ٹول ٹیکس میں بہتری لانا۔
  • قومی شاہراہوں پر چیک پوسٹ کے معائنے کو آسان بنانا۔
  • فلیٹ مالکان کے سیکیورٹی خدشات اور اخراجات کا ازالہ کرنا۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کاروباری شخصیت ہیں اور بھاری لاجسٹکس پر انحصار کرتے ہیں، تو آپ اپنے شیڈول کے مطابق ترسیل جاری رکھ سکتے ہیں۔ سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے وزارت بحری امور اور اوگرا کی جانب سے طے شدہ مطالبات کے نفاذ کے شیڈول پر نظر رکھیں۔