کراچی کی ایک مقامی عدالت نے منشیات برآمدگی کے تین مختلف مقدمات میں انمول عرف پنکی کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات 22 مئی 2025 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جنوبی میں سنایا گیا۔
انمول عرف پنکی کے کیس کی تفصیلات
انمول عرف پنکی پر تھانہ گزری میں منشیات رکھنے کے تین الگ الگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد جج نے تمام مقدمات میں ملزمہ کی بریت کا حکم جاری کیا۔ مقامی سطح پر بدنام سمجھی جانے والی اس ملزمہ کی ایک ہی دن میں تینوں مقدمات سے رہائی کو ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، منشیات کے مقدمات میں پولیس کی جانب سے برآمدگی کے عمل میں کوتاہی یا شواہد کا کمزور ہونا ملزمان کی بریت کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ جب تفتیشی ٹیم عدالت کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہتی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کا تعلق براہ راست ملزم سے تھا، تو عدالت کے پاس ملزم کو بری کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
عدالتی فیصلے کے بعد کیا ہوگا؟
کراچی کے شہریوں کے لیے یہ ایک اہم سوال ہے کہ اس بریت کے بعد علاقے میں منشیات کے خلاف جاری مہم پر کیا اثر پڑے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن شہر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ اگرچہ ملزمہ کو ان تین مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے، تاہم پولیس اکثر ایسے افراد کو 'واچ لسٹ' پر رکھتی ہے تاکہ دوبارہ جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔
قانونی پیش رفت پر نظر
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا پراسیکیوشن اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتی ہے یا نہیں۔ منشیات کے مقدمات میں اکثر استغاثہ کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔ فی الحال گزری تھانے میں درج ان تین مقدمات کا باب بند ہو چکا ہے، تاہم شہر میں منشیات کے خاتمے کے لیے قانونی اور انتظامی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ قارئین کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ تھانے کو ضرور دیں تاکہ معاشرے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
