پشاور ہائی کورٹ نے دو سابق افغان جرنیلوں کی جانب سے پاکستان میں عارضی قیام کے لیے دائر کردہ درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس معاملے پر تحریری فیصلے جاری کر دیے ہیں۔

افغان جرنیلوں کی درخواست کا پس منظر

درخواست گزاروں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں وطن واپسی پر جان کا شدید خطرہ لاحق ہے، اس لیے انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔ وکلاء نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ درخواست گزاروں کو ہنگامی طبی علاج کی ضرورت ہے، جو کہ افغانستان میں میسر نہیں ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں یہاں قیام کرنے دیا جائے۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں اور سرکاری موقف کا جائزہ لینے کے بعد درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب ان سابق افغان جرنیلوں کے لیے پاکستان میں قانونی طور پر قیام کے راستے محدود ہو گئے ہیں۔

اب کیا ہوگا؟

فیصلے کے بعد اب متعلقہ حکام کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے لیے وضع کردہ امیگریشن قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اس معاملے پر اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • عدالت نے درخواستوں کو میرٹ پر مسترد کیا ہے۔
  • درخواست گزاروں کے پاس اب اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا راستہ موجود ہو سکتا ہے۔
  • وفاقی حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کے قیام سے متعلق پالیسیوں میں سختی کا سلسلہ جاری ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا درخواست گزار سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے یا انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا۔ پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کے قانونی معاملات پر وفاقی وزارتِ داخلہ کی پالیسیاں حتمی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔