منگل کے روز اسلام آباد کی ایک عدالت میں اس وقت شدید بدنظمی پھیل گئی جب کشمیر ریلی کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے 88 ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی کارروائی کے دوران پولیس اور دفاعی وکلا آپس میں الجھ پڑے۔ وفاقی دارالحکومت میں حالیہ عوامی مظاہروں کے بعد ہونے والی ان گرفتاریوں پر سیاسی کشیدگی عدالت کے اندر بھی واضح طور پر دکھائی دی۔

اڑتالیس افراد، جن میں 85 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں، کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ چونکہ ان افراد کو احتجاجی مقام سے حراست میں لیا گیا تھا، اس لیے مقدمے کو آگے بڑھانے اور گواہوں کی شناخت کے لیے شناخت پریڈ کروانا قانونی طور پر ضروری ہے۔

عدالت کے اندر ہنگامہ آرائی

عدالتی احاطے میں وکلا اور پولیس افسران کے درمیان دلائل جلد ہی تلخ جملوں اور نعرے بازی میں بدل گئے۔ دفاعی کونسلز نے جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے پرامن مظاہرین کو بلاامتیاز حراست میں لیا ہے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ ریاست سیاسی آواز کو دبانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب پولیس حکام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور عدالت میں ابتدائی رپورٹس پیش کیں جن میں مظاہرے کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے اور مزاحمت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ جج کے روسٹرم کے قریب مزید سیکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرنا پڑا۔ تمام ہنگامہ آرائی کے باوجود مجسٹریٹ نے شناخت پریڈ کا حکم جاری کر دیا۔

جوڈیشل ریمانڈ کی اہم تفصیلات

  • کل زیر حراست افراد: 88 (85 مرد، 3 خواتین)
  • اگلا قانونی مرحلہ: جیل میں لازمی شناخت پریڈ
  • استغاثہ کا مؤقف: باضابطہ فرد جرم کے لیے گواہوں کی شناخت لازمی
  • دفاعی مؤقف: پرامن مظاہرین کی غیر قانونی گرفتاریاں

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا کوئی رشتہ دار اسلام آباد کے حالیہ احتجاج کے بعد لاپتہ یا حراست میں ہے، تو سوشل میڈیا افواہوں پر بھروسہ کرنے سے گریز کریں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور مقامی قانونی امداد کے ادارے ایسے معاملات میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ کسی بھی غیر واضح حراست کی صورت میں فوری طور پر دارالحکومت میں رجسٹرڈ فوجداری مقدمات کے وکیل سے رابطہ کریں جو ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت میں درخواست دائر کر سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

ضلعی جیل میں ہونے والی شناخت پریڈ کی تاریخ پر کڑی نظر رکھیں، کیونکہ دفاعی ٹیمیں اس عمل کی شفافیت پر اعتراض اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، شناخت پریڈ مکمل ہونے کے فورا بعد دائر کی جانے والی ضمانت کی درخواستوں پر بھی نظر رکھیے گا کیونکہ اس قانونی جنگ میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔