پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، مگر یہ بنیادی طور پر ایک ٹوٹے ہوئے نظام پر جغرافیائی مرہم رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔ اگرچہ اس کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس سے علاقائی شناخت اور نمائندگی کے مسائل حل ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا گورننس کا بحران صوبوں کے سائز کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اندر موجود اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔

نئے صوبے کیوں حل نہیں ہیں؟

انتظامی کارکردگی کا تعلق نئے دفاتر یا نئی اسمبلیوں سے نہیں بلکہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے ہوتا ہے۔ اس وقت پنجاب، سندھ یا خیبر پختونخوا، کہیں بھی مقامی حکومتیں فعال نہیں ہیں۔ اگر آپ نیا صوبہ بناتے ہیں، تو آپ صرف نئی بیوروکریسی، نئے وزراء اور بجٹ کے نئے اخراجات کا اضافہ کریں گے، لیکن عام شہری کو ملنے والی سہولیات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

  • ادارہ جاتی زوال: سول سروس کا ڈھانچہ فرسودہ ہو چکا ہے اور سیاسی مداخلت کا شکار ہے، چاہے صوبہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
  • مالی بوجھ: پہلے سے موجود صوبے قرضوں اور پنشن کے بوجھ تلے دبے ہیں، مزید انتظامی یونٹس کا مطلب مالی بحران میں اضافہ ہے۔
  • سیاسی مصلحت: نئے صوبوں کا مطالبہ اکثر عوامی فلاح کے بجائے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ: اختیارات کی نچلی سطح تک عدم منتقلی

جب ہم نئے صوبوں کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو پہلے ہی خود مختاری دے رکھی ہے۔ صوبے خود مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے سے گریزاں ہیں۔ جب تک ضلعی سطح پر مالی اور انتظامی اختیارات منتقل نہیں ہوں گے، تب تک کوئی بھی نیا صوبہ عوامی مسائل حل کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔

شہریوں کو کیا مطالبہ کرنا چاہیے؟

عوام کو چاہیے کہ وہ نقشے بدلنے کے بجائے موجودہ اداروں کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کریں:

  1. مالی خود مختاری: صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ضلعی حکومتوں کے لیے مختص کیا جائے۔
  2. مقامی انتخابات: بلدیاتی انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنایا جائے اور منتخب نمائندوں کو بااختیار کیا جائے۔
  3. جوابدہی: بیوروکریسی میں میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر احتساب کا نظام لایا جائے۔

آگے کیا ہوگا؟

آئندہ بجٹ سیشن اور بلدیاتی قوانین پر ہونے والی بحث پر نظر رکھیں۔ سیاسی جماعتیں اکثر انتخابات کے قریب نئے صوبوں کا کارڈ استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی کارکردگی کی ناکامیوں کو چھپا سکیں۔ جب کوئی سیاستدان نئے صوبے کا نعرہ لگائے، تو ان سے پوچھیں کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات کیوں نہیں دیے جا رہے؟ اصل حل اسی سوال میں چھپا ہے۔