کسمز اپیلٹ ٹریبونل نے 2023 کے دوران درآمد کی جانے والی چھالیہ کی سرکاری ضبطی کو قانونی طور پر برقرار رکھتے ہوئے میسرز آر اے امپیکس کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل خارج کر دی ہے۔ یہ فیصلہ کراچی میں قائم ٹریبونل کے دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں ممبر جوڈیشل ون مظہر علی گھلو اور ممبر ٹیکنیکل ڈاکٹر طاہر قریشی شامل تھے۔
یہ مقدمہ 2023 کے دوران کراچی کی بندرگاہوں پر لائے جانے والے چھالیہ یعنی سپاری کے متنازعہ کنسائنمنٹ سے متعلق تھا۔ تجارتی درآمد کنندگان اکثر قانونی چارہ جوئی کے ذریعے رکے ہوئے سامان کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس فیصلے نے کسٹمز حکام کی جانب سے کیے جانے والے نفاذی اقدامات کی قانونی حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ پاکستان کے امپورٹ سیکٹر سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ غیر ضروری خوراک اور درآمدی ضوابط کی خلاف ورزی پر عدالتیں سختی سے نمٹیں گی۔
بینچ کی کارروائی اور قانونی مؤقف
یہ مقدمہ کسٹمز اپیلٹ ٹریبونل کراچی کے ہیڈ کوارٹر میں سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ مظہر علی گھلو اور ڈاکٹر طاہر قریشی پر مشتمل بینچ نے میسرز آر اے امپیکس کے وکلا اور پاکستان کسٹمز کے نمائندوں کے دلائل سنے۔ بینچ نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا ضبط شدہ چھالیہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ درآمدی پالیسیوں اور ایس آر اوز پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔
ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کا ابتدائی ضبطی کا حکم قانون کے عین مطابق تھا۔ درآمد کنندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوٹہ، ہیلتھ سرٹیفکیٹس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ جب کارگو ان قانونی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو کسٹمز حکام کو سامان ضبط کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔
چھالیہ مارکیٹ پر اثرات
پاکستان میں چھالیہ ایک انتہائی منافع بخش لیکن سخت ضوابط کے تحت درآمد کی جانے والی شے ہے، جو کراچی، لاہور اور فیصل آباد سمیت ملک بھر کے شہروں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے جوڈیا بازار جیسی ہول سیل مارکیٹوں میں سپاری کے نرخوں پر اثر پڑتا ہے۔ جب بڑے کنسائنمنٹس کو نیلام کرنے کے بجائے مستقل طور پر ضبط کر لیا جائے تو مارکیٹ میں قیمتیں اوپر جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ درآمد کنندگان ایف بی آر کی آفیشل ویب سائٹ fbr.gov.pk پر جا کر مزید تفصیلات اور نوٹیفیکیشنز چیک کر سکتے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ امپورٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں یا بندرگاہوں پر تجارتی کارگو ہینڈل کرتے ہیں، تو آپ کو اپنے 2023 اور 2024 کے زیر التوا کنسائنمنٹس کا فوری آڈٹ کرنا چاہیے۔ کسی بھی ضبطی کے نوٹس کے خلاف اپیل دائر کرنے سے پہلے تمام ریگولیٹری کلیئرنس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں، ایف بی آر کی جانب سے ضبط شدہ اشیا کی پبلک نیلامی کے اعلانات پر نظر رکھیں جو کہ قانونی خریداروں کے لیے متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔
