اختتامی دعا کے ساتھ عرس کی تقریبات کا اختتام
حضرت داتا گنج بخشؒ کا 983 واں سالانہ عرس جمعرات کو لاہور میں ملک کی سلامتی، ترقی اور امن کی خصوصی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں عقیدت مندوں نے مزار پر حاضری دی اور روایتی روحانی جوش و خروش کے ساتھ آخری رسومات میں حصہ لیا۔ صوبائی وزیر اوقاف شافع حسین اور وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر علی ڈار نے اختتامی تقریب میں شرکت کی اور مزار پر پھول چڑھائے۔
تین روزہ تقریبات کے دوران اندرون لاہور میں زائرین کا رش انتہائی زیادہ رہا، جس کے باعث لوئر مال اور گردونواح کی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ عرس کے ایام میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمروں اور خصوصی پارکنگ زائرین کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
انتظامات اور سرکاری شرکت
محکمہ اوقاف کے حکام نے عرس کے انتظامات کا خود جائزہ لیا تاکہ آنے والے مہمانوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ وزیر اوقاف شافع حسین نے لنگر خانوں کا دورہ کیا جہاں زائرین کے لیے دن رات کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ریسکیو 1122 اور طبی امدادی کیمپ نے بھی عرس کے دوران چব্বیس گھنٹے خدمات فراہم کیں۔
عرس کے دوران کیے گئے اہم انتظامی اقدامات:
- مزار کے ارد گرد دو ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی۔
- زائرین کی طبی امداد کے لیے چব্বیس گھنٹے کام کرنے والے کیمپ۔
- آزادی چوک اور داتا دربار کے اطراف ٹریفک کے متبادل راستے۔
- مرکزی کنٹرول روم سے سکیورٹی کی مسلسل مانیٹرنگ۔
مسافروں کے لیے ضروری ہدایت
اگر آپ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اندرون لاہور یا داتا دربار کے راستے سے سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ٹریفک کے دباؤ کے لیے تیار رہیں۔ ریلوے اسٹیشن اور بھاٹی گیٹ کی طرف جانے والی سڑکوں پر آمدورفت سست رہ سکتی ہے۔ شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ متبادل راستوں کا انتخاب کریں۔
آئندہ کے لیے کیا دیکھنا ہے
محکمہ اوقاف کی جانب سے عرس کے دوران آنے والے زائرین کی حتمی تعداد اور نذر و نیاز کے اعداد و شمار اگلے ہفتے جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ ان رپورٹس کی روشنی میں پنجاب بھر میں دیگر بزرگان دین کے عرس کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے۔
