کانگو کے جمہوری جمہوریہ میں ایبولا وائرس کا تیز ترین پھیلاؤ جاری ہے۔ حکام نے جمعرات کو تصدیق کی کہ وائرس اب باس-یویل صوبے تک پہنچ چکا ہے، جہاں 12 اگست 2026 کو ایک 39 سالہ شخص کی موت ہو گئی۔ یہ شخص ایبولا وائرس سے متاثر تھا۔

اس سے قبل یہ وائرس کانگو کے شمالی کivu، جنوبی کivu اور ایتوری صوبوں تک محدود تھا۔ اب باس-یویل میں پہلی موت کے بعد حکام کو خدشہ ہے کہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ اس وباء میں اب تک 28 تصدیق شدہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ 47 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  • متاثرہ صوبے: شمالی کivu، جنوبی کivu، ایتوری، باس-یویل
  • آخری کیس کی تاریخ: 14 اگست 2026
  • ڈبلیو ایچ او کی ٹیم: باس-یویل میں 15 اگست 2026 کو تعینات

یہ وائرس زائر ایبولا وائرس نامی قسم ہے جو اب تک کے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ مہلک ہے۔ اس کی شرح اموات پچھلے وباء میں 90 فیصد تک رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبے میں وائرس کے پھیلنے سے خطرہ بڑھ گیا ہے کہ یہ وائرس یوگنڈا، روانڈا اور دیگر پڑوسی ممالک تک پہنچ جائے۔

وائرس کیسے پھیلتا ہے اور کن باتوں کا خیال رکھیں

ایبولا وائرس متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ سطحوں کے براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔ اس کی علامات میں اچانک بخار، شدید کمزوری، پٹھوں میں درد، سر درد اور گلے کی خراش شامل ہیں۔ بعد میں قے، اسہال اور شدید صورتوں میں اندرونی و بیرونی خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس وائرس کی انکیوبیشن مدت عموماً 2 سے 21 دن ہوتی ہے۔

کانگو کے باس-یویل صوبے میں صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی ہے اور یہ علاقہ وسطی افریقی جمہوریہ کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتا ہے جہاں بھی ایبولا کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خطرے کی سطح کو قومی سطح پر ’بہت زیادہ‘ اور علاقائی سطح پر ’زیادہ‘ قرار دے دیا ہے۔

پاکستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 21 دن تک اپنے صحت کا خیال رکھیں اور کسی بھی علامت پر فوری طور پر رپورٹ کریں۔ این آئی ایچ نے رہنمائی کے لیے ایک ہاٹ لائن 051-9255555 بھی جاری کی ہے۔

پاکستان کی تیاریاں کیا ہیں

اگرچہ پاکستان میں اب تک کوئی ایبولا کا کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم قومی صحت خدمات وزارت (این ایچ ایس) نے قومی ایبولا تیاری اور جواب منصوبہ کو فعال کر دیا ہے۔ اہم اقدامات میں شامل ہیں:

  • ہوائی اڈوں پر اسکریننگ: اسلام آباد، کراچی، لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر 16 اگست 2026 سے تھرمل اسکینر نصب کیے گئے ہیں۔
  • قرعہ خانے کی سہولیات: پانچ ہسپتالوں کو آئسولیشن سینٹرز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے: پی آئی ایم ایس اسلام آباد، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال لاہور، حیدرآباد میڈیکل کمپلیکس پشاور اور کومبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی۔
  • لیب ٹیسٹنگ: این آئی ایچ کے وائرسولوجی لیب میں پی سی آر مشینوں کے ذریعے ایبولا ٹیسٹنگ کی سہولت دستیاب ہے جس کے نتائج 6 گھنٹے میں آ جاتے ہیں۔
  • عوامی آگہی: این ایچ ایس نے اردو اور انگریزی میں ایس ایم ایس الرٹس اور سوشل میڈیا مہمات شروع کی ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جنگلی جانوروں اور مریضوں کے جسمانی رطوبتوں سے دور رہیں اور کسی بھی مشتبہ کیس کی اطلاع 1166 (این ایچ ایس ہیلپ لائن) پر دیں۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہئے

آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ نے حال ہی میں وسطی افریقہ کا سفر کیا ہے یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو باخبر رہنا چاہئے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:

  • صحت پر نظر رکھیں: اگر آپ نے پچھلے 21 دن میں کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ یا پڑوسی ممالک کا سفر کیا ہے تو بخار، قے یا خون بہنے جیسے علامات پر نظر رکھیں۔
  • رابطے سے پرہیز کریں: بیمار یا مردہ جانوروں (خصوصاً چمگادڑ اور بندر)، کچے جنگلی گوشت یا جسمانی رطوبتوں کو نہ چھوئیں۔
  • ہاتھ دھوئیں: بازاروں یا ہسپتالوں سے واپس آنے کے بعد صابن یا ہینڈ سینی ٹائزر سے ہاتھ دھوئیں۔
  • علامات کی اطلاع دیں: اگر آپ کو 38.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بخار ہو اور دیگر ایبولا کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی نامزد ہسپتال میں جائیں۔ خود دوا نہ کھائیں۔
  • سفر کے مشورے چیک کریں: خارجہ امور کی وزارت نے وسطی افریقہ کے لیے سفر کے مشورے کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے وزٹ کریں: mofa.gov.pk/travel-advisories

آگے کیا ہوگا: نگرانی اور روک تھام

ڈبلیو ایچ او کانگو کے حکام کے ساتھ مل کر باس-یویل کے مریض کے رابطوں کا پتہ لگانے اور فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ کانگو میں ارویبو ویکسین کی 5,000 سے زائد خوراکیں پہلے سے موجود ہیں لیکن سپلائی محدود ہے۔

پاکستان میں این ایچ ایس 19 اگست 2026 کو ایک پریس کانفرنس کرے گا جس میں عوامی تیاری کی سطح پر اپ ڈیٹ دیا جائے گا۔ حکومت نے تمام صوبوں کو 18 اگست 2026 سے روزانہ نگرانی رپورٹس جمع کرانے کا بھی کہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وباء کو روکنے کا وقت ابھی موجود ہے لیکن دور دراز علاقوں میں رپورٹنگ میں تاخیر اور کمزور صحت کی سہولیات وائرس کو مزید پھیلنے کا موقع دے سکتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے کانگو اور پڑوسی ممالک کی مدد کے لیے 15 ملین ڈالر کی ہنگامی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

فی الحال پاکستان کا صحت نظام ہنگامی حالت میں ہے لیکن اگر احتیاط برتی جائے تو عوام کے لیے خطرہ کم ہی ہے۔