زمبابوے میں پیش آنے والے دلخراش زمبابوے میں کشتی کا حادثہ کے بعد ریسکیو اور تلاش کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ہفتے کے روز مزید لاشیں نکالے جانے کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 68 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حادثہ اس ہفتے کے دوران جھیل کریبا میں پیش آیا تھا جہاں ایک مسافر کشتی اچانک الٹ گئی تھی۔

مقامی حکام اور امدادی اداروں کی ٹیمیں جھیل کے وسیع و عریض رقبے میں مسلسل آپریشن چلا رہی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ جھیل کریبا دنیا کے سب سے بڑے انسان ساختہ آبی ذخائر میں سے ایک ہے جو زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ہفتے کے روز سامنے آنے والے تازہ ترین اعداد و شمار نے اس سانحے کی ہولناکی کو مزید واضح کر دیا ہے، جو حالیہ برسوں کے بدترین آبی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

جھیل کریبا میں امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشن

حادثے کے بعد سے ہی غوطہ خوروں اور میری پولس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور انتہائی مشکل حالات میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران جیسے جیسے لاشیں نکالی جا رہی ہیں، ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حادثے کے وقت کشتی پر کل کتنے افراد سوار تھے اور کتنے مسافر تاحال لاپتہ ہیں۔

بین الاقوامی خبروں پر گہری نظر رکھنے والے پاکستانی قارئین کے لیے یہ واقعہ نقل و حمل کے حفاظتی انتظامات اور پانی کے راستوں پر چلنے والی کشتیوں کے معیار پر اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ایسے حادثات انتظامی غفلت اور حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں جس پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آئندہ کیا متوقع ہے اور تحقیقات کا دائرہ کار

حکام کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ اس بات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے کہ آیا کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے یا خراب موسم اس سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔ زمبابوے کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔