پاکستان میں سوشل میڈیا پر 'جنریشن زی' (Gen Z) اور 'بومرز' (Boomers) جیسے لیبلز کا استعمال عام ہو چکا ہے، لیکن کیا یہ اصطلاحات ہماری مقامی حقیقتوں سے میل کھاتی ہیں؟ یہ لیبلز دراصل مغرب سے درآمد شدہ ہیں جو لوگوں کو ان کی پیدائش کے سال اور رویوں کے مطابق خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

جنریشن زی اور دیگر گروپس کی تعریف کیا ہے؟

نسلی گروہ بندی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انسان کس دور میں پیدا ہوا۔ اگرچہ ماہرین کی آراء میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، لیکن عام طور پر تسلیم شدہ تقسیم کچھ یوں ہے:

  • بیبی بومرز: 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے۔
  • جنریشن ایکس: 1965 سے 1980 کے درمیان پیدا ہونے والے۔
  • ملینیلز (جنریشن وائے): 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے والے۔
  • جنریشن زی: 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے۔
  • جنریشن الفا: 2013 کے بعد پیدا ہونے والے۔

پاکستان میں ان اصطلاحات کو اکثر ٹیکنالوجی کے استعمال یا سماجی رویوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان مغربی تصورات کو پاکستانی تناظر میں دیکھنا اکثر گمراہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہمارا معاشی اور سماجی ڈھانچہ یورپ اور امریکہ سے یکسر مختلف ہے۔

کیا یہ نسلی لیبلز پاکستان میں اہم ہیں؟

بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں نسلوں کے درمیان فرق کا دارومدار پیدائش کے سال سے زیادہ معاشی حالات اور تعلیم تک رسائی پر ہے۔ مثال کے طور پر، 1990 میں پیدا ہونے والا ایک پاکستانی شہری جو کراچی کے کسی جدید علاقے میں پلا بڑھا ہو، اس کی زندگی کا تجربہ اسی سال بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں پیدا ہونے والے شخص سے بالکل مختلف ہوگا۔

اگرچہ 'جنریشن زی' کو اکثر ڈیجیٹل دور کے بچے کہا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز تک محدود رسائی کی وجہ سے یہ اصطلاح ہر نوجوان پر صادق نہیں آتی۔ ان لیبلز کے ذریعے لوگوں کو پرکھنا ہمارے خاندانی اور ثقافتی اقدار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

آن لائن ٹرینڈز کو کیسے سمجھیں؟

جب آپ سوشل میڈیا پر ان اصطلاحات کو ٹرینڈ ہوتے دیکھیں، تو انہیں سائنسی حقائق کے بجائے محض زبان کے ٹولز سمجھیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اکثر ان لیبلز کا استعمال لوگوں کو گروپس میں بانٹنے کے لیے کرتے ہیں، جس سے نسلوں کے درمیان بلاوجہ تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔

اپنے آپ کو 'بومر' یا 'جنریشن زی' کے خانوں میں فٹ کرنے کے بجائے، اس بات پر غور کرنا زیادہ مفید ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تبدیلیاں، جیسے کہ مصنوعی ذہانت (AI) یا موبائل بینکنگ، ہم سب کی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہیں۔ یہ لیبلز اکثر مارکیٹنگ کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر انگیجمنٹ بڑھائی جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے وقتوں میں مقامی کاروبار اور سیاسی جماعتیں اپنی مہمات کو ان 'نسلی' حصوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گی۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل رسائی بڑھے گی، آپ کو اس قسم کے پیغامات زیادہ نظر آئیں گے۔ تاہم، ہمیشہ یہ جانچنے کی کوشش کریں کہ کیا یہ ڈیٹا مقامی سروے پر مبنی ہے یا محض ایک درآمدی رجحان ہے جو پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتا۔