دہلی میں فضائی آلودگی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے، جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شہر کے 39 میں سے 36 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ مراکز پر پی ایم 2.5 (PM2.5) کی سطح عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ حد سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
دہلی میں فضائی آلودگی کی سنگینی
سینئر سیاستدان اجے ماکن نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ 'وزیرپور' کا علاقہ آلودگی کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ باریک ذرات (PM2.5) کی مقدار مسلسل اس حد سے اوپر ہے جو انسانی سانس لینے کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ مقامی حکام اکثر موسمی اثرات کو سموگ کا بنیادی سبب قرار دیتے ہیں، لیکن اجے ماکن نے واضح کیا ہے کہ موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد بھی پی ایم 10 (PM10) کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل 71 دنوں سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
صحت پر اثرات اور ماحولیاتی اعداد و شمار
آلودگی کی یہ مسلسل بلند سطح عوامی صحت کے لیے بالخصوص بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔ پی ایم 2.5 کے ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ خون میں شامل ہو کر طویل مدتی قلبی اور پھیپھڑوں کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ دو ماہ سے زائد عرصے تک آلودگی کا بلند رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ محض عارضی موسمی تبدیلی نہیں بلکہ صنعتی اور ٹریفک کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ دہلی کا سفر کر رہے ہیں یا آپ کے اہل خانہ وہاں مقیم ہیں، تو روزانہ کی بنیاد پر فضائی معیار کی ریڈنگ پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ رہائشیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ باہر نکلتے وقت این 95 (N95) یا اس معیار کے ماسک کا استعمال کریں اور آلودگی کے اوقات میں جسمانی مشقت سے گریز کریں۔ آلودگی کے الرٹ کے دوران کھڑکیاں بند رکھنا بھی اندرونی فضا کو زہریلے ذرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا مقامی انتظامیہ صنعتی ضوابط کو سخت کرتی ہے یا اخراج کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھاتی ہے۔ چونکہ پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں مستقل بلند ہے، ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ ماحولیاتی پالیسیوں کو محض موسمی بہانوں کے بجائے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی کے تحت چلایا جائے۔ آنے والے ہفتوں میں آلودگی کی صورتحال میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
