نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے صومالیہ میں ہائی جیک کیے گئے جہاز کے پاکستانی عملے کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے مغویوں کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے تمام تر سفارتی ذرائع بروئے کار لا رہی ہے۔
پاکستانی عملے کی بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات
اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ صومالیہ میں موجود حکام اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر مغویوں کی جلد اور محفوظ رہائی کو یقینی بنائے۔ حکومتی سطح پر صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مدد کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
سفارتی رابطے اور بین الاقوامی تعاون
صومالیہ کے معاملے کے ساتھ ساتھ حکومت دیگر ممالک کے ساتھ بھی اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں برطانوی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر قانون سے ملاقات کی جس میں تعلیمی روابط اور پاکستانی طلبہ کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ یہ ملاقات تعلیمی امور پر مرکوز تھی، لیکن یہ حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ ہر سطح پر پاکستانی شہریوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
اہل خانہ اور عوام کے لیے ہدایات
وزارت خارجہ نے مغویوں کے اہل خانہ سے کہا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اطلاعات پر انحصار کریں۔
- وزارت خارجہ کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے رابطے میں رہیں۔
- سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں تاکہ مغویوں کی حفاظت متاثر نہ ہو۔
- تازہ ترین معلومات کے لیے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ mofa.gov.pk کا وزٹ کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دن بازیابی کے عمل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صومالی حکام کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے اور حکومت امید کرتی ہے کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی پیش رفت ہوگی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔
