لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ بڑے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبے ماحول کی قیمت پر مکمل نہیں کیے جا سکتے، جس سے پنجاب بھر کے شہری منصوبہ سازوں کو ایک واضح پیغام ملا ہے۔ جمعرات کے روز ایک بنچ نے صوبائی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ پر قابو پانے کے لیے دائر کی گئی مختلف درخواستوں پر 264 صفحات پر مشتمل جامع تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی حکم کے مرکز میں لاہور میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ ہے۔ جب شہری ہر موسم سرما میں خطرناک ایئر کوالٹی انڈیکس کا سامنا کرتے ہیں تو عدالتی نگرانی میں شدت آ گئی ہے۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ کنکریٹ کی توسیع پر ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے، جس سے درختوں کی کٹائی پابندی میونسپل حکام اور ترقیاتی اداروں کے لیے قانونی ترجیح بن گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے مداخلت کیوں کی؟
پنجاب کا دارالحکومت پچھلے چند سالوں کے دوران موسم سرما کے مہینوں میں گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے جارحانہ عدالتی مداخلت ناگزیر ہو گئی۔ شہریوں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور ماحولیاتی وکلاء نے بڑھتی ہوئی ہوا کے زہریلے پن کے خلاف فوری اور طویل مدتی اقدامات کی درخواست کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔ تفصیلی فیصلے میں اس بات اجاگر کیا گیا ہے کہ بے لگام تجارتی تعمیرات اور سبزہ زاروں کی مسلسل تباہی نے شہر کے قدرتی آب و ہوا کے توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
جاری تعمیرات اور ترقیاتی کاموں پر اثرات
264 صفحات کا یہ تفصیلی فیصلہ اب قانونی ریکارڈ کا حصہ بننے کے بعد سرکاری اداروں اور نجی ڈویلپرز کو اپنے شہری منصوبہ بندی کے طریقوں کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں کی توسیع کے بڑے منصوبے، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اب ماحولیاتی اثرات کے جائزوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی ایسا منصوبہ جس میں درختوں کو کاٹنے کی ضرورت ہو، اس وقت تک قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرے گا جب تک کہ متعلقہ ماحولیاتی تحفظ کے محکمے متبادل منصوبوں کی منظوری نہ دے دیں۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ لاہور میں رہتے ہیں یا یہاں جائیداد رکھتے ہیں، تو اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ آپ کی مقامی انتظامیہ آپ کے محلے میں سبز جگہوں کا انتظام کیسے کرتی ہے۔ آپ ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (EPA) پنجاب کے سرکاری شکاتی پورٹلز یا ہیلپ لائن نمبرز کے ذریعے غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے یا دھواں چھوڑنے والی صنعتی یونٹس کی براہ راست شکایت کر سکتے ہیں۔ مقامی زوننگ قوانین سے باخبر رہنا آپ کے اردگرد کے ماحول کو غیر مجاز تجارتی کنکریٹ سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔
آنے والے ہفتوں میں کیا دیکھنا ہوگا؟
اس بات پر نظر رکھیں کہ پنجاب حکومت اور صوبائی محکمہ جات اس فیصلے کی تعمیل کے لیے اپنے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کیسے ردوبدل کرتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا انتظامی ادارے ان عدالتی حدود کو نافذ کرتے ہیں یا آئندہ اسموگ کے موسم سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطح کے میگا پراجیکٹس کے لیے قانونی نرمی کی کوشش کرتے ہیں۔
