لاہور میں پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹاؤن شپ کے پولیس اسٹیشن میں چوری کے الزام میں بند دو خواتین کیاچانک موت نشے کی زیادتی کے باعث ہوئی۔ منگل کے روز پیش آنے والے اس واقعے نے صوبائی دارالحکومت کے پولیس نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں جبکہ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی آئی جی آفس کے ابتدائی بیانات کے مطابق زیر حراست خواتین کی طبیعت پولیس لاک اپ میں اچانک بگڑی، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر سرکاری مؤقف درست ہے تو محفوظ سمجھے جانے والے لاک اپ کے اندر منشیات کیسے پہنچی۔ دوسری جانب متوفیان کے لواحقین نے پولیس کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حراست کے دوران تشدد اور غفلت کا الزام عائد کیا ہے۔

ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن کے واقعے کے گرد گھومتے سوالات

تھانہ ٹاؤن شپ کے واقعے میں پولیس کی کارروائی اور ایس او پیز پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جب کسی شہری کو معمولی نوعیت کے جرائم مثلاً چوری کے شبے میں تھانے لایا جاتا ہے تو اس کی تلاشی لی جاتی ہے، ایسے میں لاک اپ کے اندر منشیات کی موجودگی یا استعمال کے دعوے نے شک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے نشے کی زیادتی کا الزام لگانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکام ثبوت پیش کریں کہ ممنوعه اشیاء ڈیوٹی افسران اور سنتریوں کی موجودگی میں اندر کیسے گئیں۔ موت کی اصل وجوہات جاننے کے لیے آزاد میڈیکل بورڈ کے ذریعے پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے۔

  • ضلعی حکام کی جانب سے مکمل پوسٹ مارٹم کا حکم
  • تھانے کے راہداریوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ
  • انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے عدلیہ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

اگر آپ کو حراست میں لیا جائے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے

پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں اپنے آئینی حقوق سے آگاہی انتہائی ضروری ہے، بالخصوص پولیس کے ساتھ ابتدائی رابطے کے دوران۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا تھانے میں بند ہے تو فوری قانونی معاونت ناگزیر ہے۔

  • تھانے پہنچتے ہی فوری طور پر کسی وکیل سے بات کرنے کا حق مانگیں۔
  • بغیر قانونی مشورے کے کسی بھی خالی کاغذ، اعترافی بیان یا دستاویز پر دستخط کرنے سے گریز کریں۔
  • اپنے خاندان کے افراد اور مقامی بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو گرفتاری کی جگہ سے فوری آگاہ کریں۔

تحقیقات میں آگے کیا دیکھنا ہوگا

پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور ڈیوٹی عملے کو معطل کریں۔ آنے والے دنوں میں کیمیکل ایگزامنر کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے جو ٹاکسولوجی ٹیسٹ کے ذریعے نشے کے دعوے کی تصدیق یا تردید کرے گی۔ عدلیہ کی مداخلت سے یہ واضح ہوگا کہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہوتے ہیں یا نہیں۔