لاہور پولیس نے احتجاج کی کوریج کے دوران صحافی ناطق ریحان پر مبینہ تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چار پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ ڈی آئی جی لاہور کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک محکمانہ انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

صحافی ناطق ریحان پر تشدد کی تحقیقات

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، صحافی کی جانب سے کوریج کے دوران پولیس اہلکاروں کے رویے اور تشدد کی شکایات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری ایکشن لیا۔ معطل ہونے والے اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا گیا ہے اور انکوائری کمیٹی یہ تعین کرے گی کہ کیا پولیس اہلکاروں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا یا نہیں۔

  • کارروائی: چار پولیس اہلکار معطل۔
  • مرحلہ: محکمانہ انکوائری کا آغاز۔
  • مقام: لاہور، پنجاب۔
  • پس منظر: احتجاج کی کوریج کے دوران پیش آنے والا واقعہ۔

صحافیوں کے حقوق اور تحفظ

اس واقعے نے ایک بار پھر صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا تنظیموں کا کہنا ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا آزادی صحافت کے منافی ہے۔ لاہور پولیس انتظامیہ کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں گی اور کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آگے کیا ہوگا؟

آئندہ چند ہفتوں میں اس انکوائری کے نتائج متوقع ہیں۔ اگر تحقیقات میں اہلکار قصوروار پائے گئے تو انہیں ملازمت سے برخاست کرنے سمیت سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا پولیس کے ناروا رویے یا تشدد کا شکار ہوا ہے، تو آپ کو آئی جی پنجاب کے کمپلینٹ سیل میں باقاعدہ شکایت درج کروانی چاہیے۔ کسی بھی واقعے کے ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ اور ویڈیو فوٹیج کو محفوظ رکھنا قانونی کارروائی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔