ڈیجیٹل منڈی ماڈل کو اب پورے خیبر پختونخوا میں متعارف کرایا جائے گا، جس کا مقصد مردان میں شروع کیے گئے کامیاب پائلٹ پروجیکٹ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ اقدام زرعی منڈیوں میں شفافیت لانے اور کسانوں کو ان کی فصلوں کا بہتر معاوضہ دلانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
مردان میں ڈیجیٹل منڈی ماڈل کی کامیابی
اس نظام کی کامیابی پر اسسٹنٹ کمشنر مردان، ڈاکٹر احمد شیر زمان ڈوگر (PAS) کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی جانب سے تعریفی سند اور تین ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس پروجیکٹ نے روایتی نیلامی کے عمل کو ڈیجیٹل بنا کر بیچولیوں کے کردار کو کم کرنے اور مارکیٹ کے اعداد و شمار کو درست رکھنے میں مدد کی ہے۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ڈیجیٹل منڈی ماڈل ایک مرکزی پلیٹ فارم پر مبنی ہے جو نیلامی کے عمل کو خودکار بناتا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- زرعی اجناس کی قیمتوں کی ریئل ٹائم نگرانی۔
- نیلامی کے ڈیٹا میں غلطیوں کو ختم کرنے کے لیے خودکار ریکارڈ کیپنگ۔
- صوبائی زرعی ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام تاکہ سپلائی چین کی نگرانی کی جا سکے۔
کسانوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قیمتوں کا تعین خفیہ نہیں رہے گا اور انہیں مارکیٹ کے تازہ ترین نرخوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ کسان یا تاجر ہیں، تو محکمہ زراعت کے پی کے کی جانب سے اپنے ضلع میں اس نظام کے نفاذ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ یہ منتقلی مرحلہ وار ہوگی، جس میں پہلے بڑے شہروں کی ہول سیل منڈیوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس نظام کی کامیابی کا انحصار انٹرنیٹ کی دستیابی اور روایتی آڑھتیوں کے اس ڈیجیٹل سسٹم کو اپنانے پر ہوگا۔ حکومت نے ابھی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن اسے موجودہ مالی سال کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
