پاکستان کے بڑے شہروں میں روایتی تمباکو نوشی کی جگہ ڈیجیٹل سموکنگ تیزی سے لے رہی ہے اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے کیفے اور دفاتر میں الیکٹرانک سگریٹ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل سموکنگ کے اس رجحان نے نوجوان پیشہ ور افراد اور یونیورسٹی کے طلباء کی عادات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے جو روایتی سگریٹ کے بجائے ریچارج ایبل پوڈز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بڑے تجارتی بازاروں اور آن لائن اسٹورز پر ان ڈیوائسز اور مختلف ذائقوں والے لیکوئڈز کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پوڈ سسٹمز اور ڈسپوزایunprocessable ویپس کا پھیلاؤ

پاکستان میں ڈیجیٹل سموکنگ کی مارکیٹ میں پچھلے چند سالوں کے دوران بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اب بڑے سائز کے ویپز کی بجائے جیب میں آنے والے پوڈ سسٹمز زیادہ فروخت ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف برانڈز کے پودینے، آم اور تباكو کے ذائقے والے نکوٹین سالٹس آسانی سے مل جاتے ہیں۔ روایتی سگریٹ کے برعکس جن پر حکومتی ٹیکس اور صحت کے انتباہات لازمی ہیں، یہ الیکٹرانک آلات زیادہ تر آن لائن اور خصوصی دکانوں کے ذریعے فروخت ہوتے ہیں۔

  • چھوٹے اور ریچارج ایبل پوڈ سسٹمز اب پہلی پسند بن چکے ہیں۔
  • پھلوں اور منٹ کے ذائقے نوجوان خریداروں میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔
  • آن لائن ڈیلیوری نیٹ ورکس کی وجہ سے ان کی خریداری انتہائی آسان ہو گئی ہے۔

طبی خدشات اور ریگولیٹری مسائل

اگرچہ فروخت کنندگان ان آلات کو روایتی سگریٹ چھوڑنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین نے ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈریپ اور وزارت صحت کی جانب سے درآمد شدہ ای لیکوئڈز پر فی الحال کوئی سخت معیار لاگو نہیں ہے، جس سے غیر معیاری اشیاء کی فروخت کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارمز پر کم عمر افراد کی جانب سے خریداری روکنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ڈیجیٹل سموکنگ استعمال کرتے ہیں تو اس کے مالی اور صحت سے جڑے اثرات کا جائزہ لیں۔ اصلی ڈیوائسز اور پوڈز کا ماہانہ خرچ کافی زیادہ ہو سکتا ہے جو عام سگریٹ کے خرچ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہمیشہ مصدقہ پیکنگ والی اشیاء خریدیں تاکہ غیر معیاری کیمیکلز سے بچا جا سکے۔ اگر آپ کا مقصد نکوٹین کی لت چھوڑنا ہے تو کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور وزارت صحت کی پالیسیوں پر نظر رکھیں کیونکہ حکومت ان الیکٹرانک مصنوعات پر نئے ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر آنے والے بجٹ میں ان پر ڈیوٹی بڑھائی گئی تو ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے قریب ان کی فروخت کو روکنے کے لیے بھی نئے قوانین زیر غور ہیں۔